ایسا پہلی بار ہو رہا تھا کہ سیاسی جماعتوں نے جموں کشمیر میں لوگوں کو کچھ دینے… مفت میں دینے کی بات کی تھی …یہ باتیں انہوں نے سال گزشتہ ہوئے اسمبلی الیکشن کے دوران اپنے انتخابی منشوروں میں کی تھیں۔ نیشنل کانفرنس اور اپنی پارٹی‘جو کشمیریوں کی اپنی پارٹی بالکل بھی نہیں ہیں ‘ نے کی تھیں ۔ دونوں جماعتوں نے اپنے منشور میں لوگوں کو مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا… نیشنل کانفرنس نے ۲۰۰ یونٹ جبکہ اپنی پارٹی نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۵۰۰ یونٹ مفت بجلی دینے کا وعدہ کیا تھا ۔اب ان دونوں جماعتوں نے مفت بجلی کی فراہمی کرنے کے وعدے کی نقل دہلی کی عام آدمی پارٹی کی حکومت سے کی تھی یا نہیں … صاحب یہ تو ہم نہیں جانتے ہیں… سوائے اس ایک بات کے کہ ان دونوں جماعتوں نے مفت بجلی دینے کا جو وعدہ کیا تھا ‘ اس کی سچ میں ضرورت تھی اور… اور سو فیصد تھی ۔ لوگ بھی اس وعدے سے خوش ہوئے… اور اس لئے ہوئے کیوں کہ ان کی شکایت تھی کہ اس کمر توڑ مہنگائی میں بجلی بلوں میں کافی اضافہ ہوا ہے…اب صاحب الیکشن ہوئے… الیکشن کو ہوئے بھی ایک سال ہو گئے … اور این سی اپنے دور اقتدار کا ۲۰ فیصد دورانیہ ضائع معاف کیجئے ختم بھی کرنے والی ہے… لیکن… لیکن مفت بجلی… ۲۰۰ مفت بجلی کس کو ملے… کسی کو ملے بھی ہمیں نہیں معلوم… بالکل بھی نہیں معلوم ہے ۔لیکن صاحب کسی کو بھی این سی حکومت سے کوئی شکوہ اور شکایت نہیں ہے… اور اس لئے نہیں ہے کیونکہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ وعدہ کیا ہی گیا تھا… اس لئے کیا گیا تھا کہ اگر اسے پورا نہ بھی کیا جائے تو کوئی خفا نہیں ہوگا اور… اور اس لئے نہیں ہو گا کیونکہ… آپ کشمیر میں بجلی… مفت بجلی تب دیں گے جب آپ کے پاس پہلے بجلی دینے کو ہوگی… جو چیز آپ کے پاس دینے کو ہے ہی نہیں … اسے آپ کیسے اور کس کو مفت میں دیں گے ؟ وہ کیا ہے کہ گرما میں جموں اور سرما میں کشمیر کو بجلی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا تھا… گر ما میں کشمیر اور سرما میں جموں کو بجلی کا زیادہ مسئلہ درپیش نہیں رہتا تھا… لیکن صاحب یہ قصہ پارینہ ہے کہ اب گرما ہو یا سرما جموں ہو یا کشمیر ‘ دونوں صوبوں کو بجلی کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے اور… اور سو فیصد ہو تا ۔لوگوں کیلئے یہ بات ‘ یہ صورتحال اچھی نہ ہو یا نہیں لیکن این سی حکومت کیلئے ہے کہ… کہ وہ یہ بہانہ پکڑ سکتی ہے کہ وہ مفت بجلی تب دیتی جب اس کے پاس بجلی دینے کو ہو تی… ہے نا؟




