امرتسر، 30 اگست (یو این آئی) پنجاب حکومت کے تین انتظامی سکریٹری سطح کے افسر کمل کشور یادو، ورن روجم اور بسنت گرگ سیلاب متاثرین کے لیے امدادی کاموں کی نگرانی کے لیے چنڈی گڑھ سے اجنالہ پہنچ گئے ہیں۔
ہفتہ کو اجنالہ کے علاقے میں مسلسل بارش ہوتی رہی، لیکن بارش کے باوجود امدادی کام نہیں متاثر نہیں ہوا۔ سینئر افسران اور ملازمین اپنے کام میں مصروف رہے ۔ امرتسر کے ڈپٹی کمشنر ساکشی ساہنی کی قیادت میں طلوع آفتاب سے پہلے امدادی کام شروع کر دیا گیا تھا۔ سیلاب سے ضلع کے 70 دیہات متاثر ہوئے ہیں، جن کی آبادی کا تخمینہ 30 ہزار کے قریب ہے ۔
این ڈی آر ایف اور فوج کی فلڈ ریلیف ٹیمیں انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان جگہوں پر 30 کے قریب کشتیاں کام کر رہی ہیں۔ جہاں سڑک کے ذریعے پہنچنا ممکن نہیں ہے ، ضلع میں تین ریلیف کیمپ کام کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ لوگوں کے قیام کے لیے کئی اسکولوں کو بھی کھول دیا گیا ہے ۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ریلیف کیمپوں میں آنے والے لوگوں کی ہر طرح سے مدد کی جارہی ہے ۔ پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور ان کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت نے امدادی کیمپوں میں میڈیکل ٹیمیں 24 گھنٹے تعینات کر رکھی ہیں، اس کے علاوہ میڈیکل ٹیمیں بھی اونچی جگہوں پر بیٹھ کر لوگوں کا علاج کر رہی ہیں اور ادویات بھی تقسیم کر رہی ہیں۔
اب تک ضلع میں راحت رساں ٹیموں کے ذریعے 1700 سے زائد افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکالا جا چکا ہے ۔ متاثرہ علاقے میں اب تک ایک لاکھ سے زائد پینے کے پانی کی بوتلیں تقسیم کی جا چکی ہیں اور 40 ہزار سے زائد فوڈ پیکٹ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے علاوہ مختلف تنظیمیں، این جی اوز اور مقامی افراد بھی ضرورت مندوں کو راشن کا سامان فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ضرورت مندوں کو تقریباً 700 ترپالیں بھی فراہم کی گئی ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو بارش سے بچنے کے لیے اپنے گھروں کی چھتوں پر بیٹھے ہیں۔








