گزشتہ دنوں جموں کشمیر ایک بار پھر خوفناک سیلاب کی لپیٹ میں آیا۔اب کی بار جموں صوبہ زیادہ متاثر رہا لیکن وادی میں بھی محض دو دنوں کی بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی تھی ۔
جموں میں دریا لبا لب پانی سے بھر گئے‘ سڑکیں اور پل بہہ گئے، کھیت کھلیان پانی میں ڈوب گئے اور متعدد بستیاں کٹ کے رہ گئیں۔ وادی کے لوگوں کیلئے ایسے مناظر ۲۰۱۴ کے تباہ کن سیلاب کی تلخ یادیں تازہ کر دیتے ہیں، جس نے زندگی کو مفلوج کر دیا تھا۔ آج جب کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں، اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کھلے دل سے ان اسباب پر غور کریں جن کی وجہ سے ایسے سیلاب بار بار آ رہے ہیں، اور ان وجوہات کو دور کرنے کے لئے طویل المدتی اقدامات کریں۔
سیلاب اب جموں و کشمیر میں ’صدی میں ایک بار‘ کا واقعہ نہیں رہا، بلکہ وہ وقتاً فوقتاً آ رہے ہیں۔ ان کی شدت کی سب سے بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی، غیر منصوبہ بند ترقی اور ماحولیاتی بدانتظامی ہے۔ اگر یہ بنیادی مسائل حل نہ کیے گئے تو جموںکشمیر کو کبھی خشک سالی اور کبھی تباہ کن بارشوں کے درمیان جھولتے رہنا ہوگا۔
اس سے جہاں مالی نقصانات تو ہو ہی رہے ہیں لیکن جانی نقصان سے بھی بچ نہیں پا رہے ہیں ۔ کشتواڑ کے چاشوتی گاؤں میں۱۴؍اگست کو بادل پھٹنے سے جہاں اب تک ۶۵ لوگوں کی لاشیں مل گئی ہیں وہیں اب بھی ۳۰ کے قریب لاپتہ ہیں جبکہ حالیہ سیلاب میں جموں صوبے میں مزید ۴۰ لوگوں کی جانیں گئیں۔
جموں کشمیر میں بار بار آنے والے سیلاب کی سب سے بڑی وجہ بدلتا ہوا موسم اور عالمی حدت ہے۔مون سون کی بارشیں اب وقت پر نہیں آتیں بلکہ اچانک اور شدید طوفانی انداز میں برستی ہیں، جس سے دریا اور نالے لبریز ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ کشتواڑ، ڈوڈہ اور پونچھ جیسے اضلاع میں بار بار بادل پھٹنے کی وارداتیں دیکھنے کو مل رہی ہیں، جو فوری سیلاب اور مٹی کے تودے گرا دیتی ہیں۔
درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے برف تیزی سے پگھل رہی ہے، جس سے بہاؤ اچانک بڑھ جاتا ہے اور دریا خطرناک حد تک بھر جاتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ ہمالیائی خطہ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے اور جموں و کشمیر اس کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔
سیلاب کی شدت کی سب سے بڑی انسانی وجہ قدرتی جھیلوں اور دلدلی علاقوں پر قبضہ ہے۔ یہ علاقے فطری طور پر پانی کو سمیٹنے اور محفوظ کرنے کا کام کرتے تھے۔ہوکر سر ویٹ لینڈ، جو کبھی سری نگر کے لئے قدرتی فلٹر تھا، تیزی سے سکڑ چکا ہے۔ڈل اور ولر جھیل جو اضافی پانی جذب کرنے کے لئے مشہور تھیں، اب تجاوزات اور آلودگی کا شکار ہیں۔
جہلم کے کناروں پر رہائشی کالونیاں، شاپنگ کمپلیکس اور سرکاری عمارتیں بن چکی ہیں۔جب یہ فطری ذخیرے تباہ کر دیے گئے تو بارش کے پانی کے لئے کوئی جگہ باقی نہ رہی اور وہ بستیوں پر حملہ آور ہوا۔
۲۰۱۴ کے بعد یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ آبگاہوں اور فلڈ چینلوں کو گہرا کیا جائے گالیکن حقیقت میںجہلم کی کھدائی ادھوری رہی۔سری نگر کی پرانی فلڈ اسپِل چینل تجاوزات اور گاد سے بند پڑی ہے۔کوئی جدید وارننگ سسٹم موجود نہیں، جس سے بروقت اطلاع عوام تک پہنچ سکے۔یوں ایک معمولی بارش بھی تباہ کن سیلاب میں بدل جاتی ہے۔
۲۰۱۴ کے بعد ماہرین نے سفارش کی تھی کہ جہلم کی صفائی کی جائے، ویٹ لینڈز کو بحال کیا جائے، غیر قانونی تعمیرات ہٹائی جائیں اور جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارہ بنایا جائے۔ بدقسمتی سے یہ سفارشات فائلوں میں دب کر رہ گئیں اور آج وادی پھر وہی خطرات جھیل رہی ہے۔
حالیہ سیلاب ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ بارش قدرت کی عطا ہے، لیکن ہماری غلطیوں نے اسے آفت میں بدل دیا ہے۔ اس خطرے کو کم کرنے کے لئے فوری اقدامات ضروری ہیںجن میں ہوکرسر، ولر اور دیگر جھیلوں کو اصل شکل میں بحال کیا جائے۔جہلم کی کھدائی اور پشتوں کی مضبوطی: جدید انجینئرنگ کے ذریعے دریاؤں کو مضبوط بنایا جائے۔
پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے۔شہری منصوبہ بندی میں اصلاحات: دریاؤں کے کنارے تعمیرات پر مکمل پابندی لگائی جائے۔
جموں و کشمیر کے حالیہ سیلاب محض قدرتی حادثات نہیں بلکہ ہماری ماحولیاتی بدانتظامی اور غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ وادی کو وقتی ریلیف پیکیج سے زیادہ ایک طویل المدتی وڑن کی ضرورت ہے جس میں ماحول کا تحفظ، پائیدار ترقی اور جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ شامل ہو۔
اگر ہم نے یہ اقدامات نہ کئے تو سیلاب وادی کی تقدیر بن جائیں گے۔ مگر اگر ہم سنجیدگی سے کام لیں تو جموں و کشمیر کو نہ صرف محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک پائیدار مستقبل بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں افسران سے ملیں گے اور یہ دریافت کریں گے کہ ۲۰۱۴ کے بعد جموںکشمیر میں سیلابی صورتحال سے بچنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں ۔ امید کی جانی چاہیے کہ وزیر اعلیٰ نہ صرف یہ دریافت کریں گے بلکہ اس پر بھی غور ہو گا کہ آئندہ کا لائحہ عمل کیا رہے گا کیوں کہ یہ پریشان کن امر ہے کہ وادی میں صرف دو دنوں کی بارشوں کے بعد جہلم اور اس کی معاون ندیوں میں پانی خطرے کے نشان سے اوپر بہنے لگا ۔




