کیا یہ ہمیں ڈرا رہا ہے ؟ہاں شاید کچھ ایسا ہی ہے … یہ یقینا ہمیں ڈرا رہا ہے اور سچ یہ بھی ہے کہ ہم ڈر گئے ہیں… ہم ڈر جاتے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ ’جو ڈر گیا وہ مرگیا‘ میں ہمیں یقین نہیں ہے… ہمیں اس منتر پر سو فیصد یقین ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ ہم ڈرتے ورتے نہیں ہیں… لیکن صاحب اس سے مقابلہ ہمارے … ہم کشمیریوں کے بس کی بات نہیں ہے … بالکل بھی نہیں ہے ۔ بھلا آج تک کس نے قدرت سے ‘فطرت سے مقابلہ کیا ہے اور جیت بھی گیا ہو… ایسا بھی نہیں ہوا ہے… ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ہے…سبھی چاہیں وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہوں اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں… سرنڈرکرتے ہیں سو اگر ہم بھی ڈر کر سرنڈر کرتے ہیں تو… تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے کہ… کہ بات کچھ ایسی ہے… کبھی ہفتوں اور مہینوں بارشیں نہیں ہوتی ہیں… زمین سوکھ جاتے ہیں… کھیت کھلیان کسی ریگستان کا نظارہ پیش کرتے ہیں اور پھر جب آسمان پگھل جاتا ہے …تو… تو اتنا پگھل جاتا ہے یہی کھیت اور کھلیان آب گاہوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں… کبھی سرما میں گرما کا احساس ہو تا ہے تو… تو کبھی گرما میں ایسی ٹھنڈ کہ… کہ ابن آدم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ… کہ یہ ہو کیا ہورہا ہے… اور جو ہو رہا ہے اب وہ کئی برسوں سے ہو رہا ہے… آپ اسے کوئی بھی نام دے سکتے ہیں… اسے گلوبل وارمنگ کہہ سکتے ہیں… اسے ترقی کی نام پر تباہی کا شاخسانہ قرار دے دسکتے ہیں… اسے قدرت اور فطرت سے کھلواڑ اور چھیڑ چھاڑ کا لیبل چسپان کر سکتے ہیں… لیکن… لیکن صاحب بات کچھ بھی ہو … ایک بات تو طے ہے کہ … کہ سوکھا پڑ جائے تو ہم ڈر جاتے ہیں… بارشیں ہوں تو ہماری جان نکل جاتی ہے …اور اس لئے نکل جاتی ہے کہ… کہ جب یہ قدرتی آفتیں آتی ہیں تو … تو اس وقت تو ہم بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں… لیکن جونہی یہ رخصت ہو جاتی ہیں… ہم سے بھاری قیمت اور تاوان کے عوض رخصت ہو جاتی ہیں تو… تو ہم سب اپنی مصروفیات میں مصروف ہو جاتے ہیں… جب تک نہ کوئی نئی آفت ہمیں گھیر لیتی ہے… اس بیچ میں ہم کچھ نہیں کرتے ہیں… ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھ جاتے ہیں … جیسے ہم ۲۰۱۴ سے اب تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ گئے تھے ۔ ہے نا؟




