نئی دہلی، 29 اگست (یو این آئی) بہار کے گورنر عارف محمد خان نے کہا ہے کہ قوانین بنانے اور اس پر بحث کرنے والے اداروں میں ناشائستہ زبان کا استعمال انتہائی تشویشناک ہے اور اسے کسی بھی سطح پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔
مسٹر خان نے جمعہ کے روز یہاں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں، لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی کے ‘‘ووٹ چور’’ لفظ کے استعمال پر کہا کہ قانون بنانے والے اداروں میں اس طرح کے توہین آمیز الفاظ کا استعمال قابلِ اعتراض ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جن اداروں میں قانون بنائے جاتے ہیں اور قانون سازی پر بحث ہوتی ہے وہاں نازیبا الفاظ کا استعمال بڑی تشویش کا موضوع ہے ۔
انہوں نے کہا، "میں سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا لیکن ایک بات ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ جہاں قوانین بنائے جاتے ہیں اور قانون سازی کے حوالے سے بحث ہوتی ہے وہاں غیر مہذب اور غیر پارلیمانی زبان کا استعمال درست نہیں ہے ۔ پارلیمنٹ میں ‘جھوٹ’ لفظ کا استعمال غیر پارلیمانی ہے ، اس لیے وہاں اس کے متبادل لفظ کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ ‘جھوٹا’ لفظ بولنا پارلیمنٹ میں غلط ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے بڑے اداروں کے معیار کو اس طرح گرایا جانا چاہیے ، یہ کسی کو بھی برداشت نہیں کرنا چاہیے ۔
انہوں نے مزید کہا، ‘‘استعمال ہونے والے الفاظ باوقار ہونے چاہئیں لیکن یہاں تو سبھی حدود کا الٹ پھیر ہو رہا ہے ۔ آپ عدالت میں جاتے ہیں تو کیا وہاں نازیبا الفاظ کا استعمال کوئی کرتا ہے ؟ کیا کسی وکیل یا کسی اور کو وہاں توہین آمیز زبان استعمال کرنے کا حق ہے ؟ کیا وہاں ناشائستہ زبان برداشت کی جاتی ہے ؟ وہاں صرف مہذب اور پارلیمانی زبان ہی استعمال کی جاتی ہے ۔ میں کسی خاص شخص کے بارے میں بات نہیں کر رہا ہوں لیکن اس طرح سے ہمارے اداروں کے وقار کو گرانا قبول نہیں کیا جانا چاہیے ۔ ان کے خلاف توہین آمیز زبان کا استعمال کرکے ان کے وقار کو کم کرنا کسی بھی طور برداشت نہیں کیا جا سکتا۔’’










