کھیل انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ نہ صرف جسمانی اور ذہنی صحت کے ضامن ہیں بلکہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے، معاشرتی تبدیلی لانے اور ایک بہتر مستقبل کی تعمیر میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جموں و کشمیر میں کھیلوں کا شوق ہمیشہ سے موجود رہا ہے، لیکن ناکافی سہولیات، محدود مواقع اور حالات کی وجہ سے نوجوان کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع کم ملتے تھے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں اس منظرنامے میں بڑی تبدیلی آئی ہے، جس کا زیادہ تر سہرا حکومت ہند کے فلیگ شپ پروگرام ’کھیلو انڈیا’ کو جاتا ہے۔
کھیلو انڈیا پروگرام کا مقصد بنیادی سطح پر کھیلوں کو فروغ دینا، دیہی اور شہری علاقوں میں ڈھانچہ جاتی سہولیات فراہم کرنا اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو قومی و بین الاقوامی سطح تک پہنچانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت کھلاڑیوں کو نہ صرف جدید تربیت اور کوچنگ دی جاتی ہے بلکہ ہر سال چھ لاکھ روپے تک کے وظیفے بھی دیے جاتے ہیں تاکہ وہ تعلیم اور کھیل دونوں کو یکساں طور پر جاری رکھ سکیں۔
حالیہ برسوں میں جموں کشمیر میں کھیل کود کی سگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد کھیل کود کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے جن کیلئے کھیل کے بنیادی ڈھانچے میں بھی بہتری کا سفر جاری ہے ۔
ایک ایسی جگہ جہاں کچھ برس قبل تک نوجوان ہمسایہ ملک کے غلط اور گمراہ کن پروپیگنڈا کا شکار ہو کر غلط راستے پر چل پڑتا تھا آج وہ اپنی توانائی نہ صرف اپنا بلکہ جموں کشمیر اور ملک کا مستقبل روشن کرنے پر صرف کررہا ہے اور کھیل کود اس کا ایک ذریعہ بن رہا ہے ۔
کشمیر میں اب کچھ برسوں سے موسم سرما میں کھیلو انڈیا کے تحت گلمرگ میں اسکیئنگ کے مختلف مقابلے ہوتے ہیں جن میں ہر سال ملک کے کم و بیش ایک ہزار کھلاڑی حصہ لیتے ہیں ۔
گلمرگ میں یہ مقابلے اب سالانہ تقریبات بن گئی ہیں ‘جس نے پورے ملک سے ہزاروں شرکاء کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ اسکیئنگ ، سنو بورڈنگ ، آئس ہاکی ، اور سنوشو رننگ نے گلمارگ کو موسم سرما کے کھیلوں کی عالمی منزل بنا دیا ہے۔
کھیلو انڈیا فٹ بال اور مارشل آرٹس لیگز نے نچلی سطح کے کھلاڑیوں کیلئے بے پناہ مقبولیت حاصل کی ہے۔
اور اب امسال گرما میں کھیلو انڈیا آبی کھیلوں کا دو روزہ مقابلہ سرینگر کی جھیل ڈل میں ہو رہے ہیں ۔اس طرح کے کھیل کود کے مقابلے نہ صرف مقامی کھلاڑیوں کو نمائش فراہم کرتی ہیں بلکہ سیاحت کو بھی فروغ دیتی ہیں ، ان مقابلوں کے دوران گلمرگ اور سری نگر میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
جمعرات کی شام کومقابلے کا افتتاح کرتے ہو ئے جموںکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر ‘ منوج سنہا کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر میں کھیلوں کا ایک متحرک ماحولیاتی نظام تیار کیا گیا ہے۔ کھیلوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور گزشتہ پانچ چھ سالوں میں مختلف کھیلوں کے شعبوں میں نوجوانوں کی شرکت تین چار لاکھ سے بڑھ کر۳۰/۴۰ لاکھ ہو گئی ہے۔
ایل جی سنہا نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے برانڈ ایمبیسڈر بنیں اور اپنے گھروں کو واپس آنے کے بعد اپنے آس پاس کے لوگوں کو جموں و کشمیر میں ہونے والی تبدیلی کے بارے میں بتائیں۔انہوں نے کہا’’آپ ہم وطنوں کو بتائیں کہ جموں و کشمیر کے نوجوان ملک کے باقی حصوں کی طرح کھیلوں کے مقابلوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ آپ انہیں یہ بھی بتائیں کہ جموں و کشمیر میں اب کوئی بند اور ہڑتال کیلنڈر جاری نہیں کیے جاتے بلکہ کھیلو انڈیا کیلنڈر جاری کیے جاتے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کی آوازیں اب گلیوں میں نہیں بلکہ اسٹیڈیموں میں گونجتی ہیں‘‘۔
گزشتہ کچھ برسوں سے کھیل کے شعبہ پر حکومت خاص توجہ دے رہی ہے جس کی وجہ سے جموںکشمیر شمالی بھارت میںکھیلوں کا ایک مرکز بنتا جارہا ہے ۔کھیلوں کے مقابلوں سے جہاں جموںکشمیر میں اس شعبے میں ترقی کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں وہیں ملک کے دیگر حصوں کے نوجوان کھلاڑی یہاں آکر مقامی نوجوانوں سے باتیں کرتے ہیں ‘ان سے روابط استوار کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو جانتے ہیں بھی ہیں ۔
یہ سب کھیلو انڈیا کے ثمرات ہیں۔ آج جموں و کشمیر نہ صرف بھارت کے کھیلوں کے نقشے پر نمایاں ہے بلکہ مستقبل میں قومی و بین الاقوامی سطح پر مزید چمکنے کیلئے تیار ہے۔جموں و کشمیر میں کھیلو انڈیا کے تحت کھیلوں کی سرگرمیوں میں اضافہ صرف کھیلوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ نوجوانوں کے لیے امید، فخر اور روشن مستقبل کا راستہ بھی بن گیا ہے۔لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ جموںکشمیر میں اب بھی معیاری کھیل کے میدانوں کے کمی محسوس کی جا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے کھیل ‘ جن میں کرکٹ ‘ ہاکی اور فٹبال قابل ذکر ہیں‘ چھوٹے بچوں میں بہت مقبول اور معروف ہیں ۔
بچے چھوٹی عمر سے ہی ان میں معیاری تربیت حاصل کرنا چاہتے ہیں ‘ لیکن انہیں یہ سہولت اُس منظم انداز میں دستیاب نہیں ہے کہ جہاں ان کی خدا داد سلاحیتوں کو بڑھا وا دی کر ان میں بہتری اور نکھار لا کر انہیں قومی اور بین الاقوامی سطح کا کھلاڑی بنایا جا سکے ۔
لیکن کہتے ہیں نا کہ ہر بڑی چیز کی شروعات چھوٹی ہو تی ہے۔ جموںکشمیر نے کھیل کود کے میدان میں کچھ بڑا کرنے کی شروعات کی ہے … چھوٹے قدموں کے ساتھ ہی سہی لیکن کی ہے





