یقین کریں کل منگل کی شام سے ہی دھڑکنیں تیز ہوئیں ہو ں گی… دل تیزی سے دھڑکنے لگا ہو گا… ماتھے پر پسینے بھی آئے ہوں گے… من میں کئی سوالوں نے جنم لینا شروع کردیا ہو گا …خیالات نے اونچی پرواز لی ہو گی… بہت اونچی ‘ آسمانوں سے بھی اونچی اور… اور اس سب کے بیچ … اس ناقابل بیان کیفیت کے بیچ ایک ہلکی سی مسکراہٹ بھی آئیگی‘ بالکل اس نئی نویلی دلہن کی طرح جو شرماتے ہو ئے تھوڑا سا مسکراہتی بھی ہے… یہ سب کچھ ہوا ہوگا… یہ کیفیت‘ یہ حالت بدھ کی دوپہر تک رہی ہو گی اور… اور پھر سب کچھ معمول پر آگیا ہو گا… جب اس بات کا یقین ہوا ہو گا کہ جموںکشمیر تنظیم نوایکٹ میں ترمیمی بل کا تعلق جموں کشمیر کا سٹیٹ ہڈ بحال کرنے سے ہے نہ جموں کو کشمیر سے الگ کرنے سے ہے… جموںکو کشمیر سے الگ کرکے ایک ریاست بنانے سے ہے اور نہ کشمیر کو جموں سے الگ کرکے ایک ایسی یو ٹی بنانے سے ہے جس میں قانون ساز اسمبلی بھی نہیں ہو گی … یہ سب وسوسے ‘ خدشات دور ہو ئے ہوں گے جب امیت شاہ … وزیر داخلہ امیت شاہ نے ترمیمی بل میں وزائے اعلیٰ اور وزراء کو عہدوں سے برطرف کرکے جیلوں میں بند کرنے کی بات کی … یقینااس ترمیمی بل نے نئی خدشات کو جنم دیا ہے ‘ لیکن اس میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں ہے… کہ ہماری دلچسپی صرف اس تک محدود ہے کہ جب منگل کی شام کو یہ خبر آئی کہ امیت شاہ بدھ کی صبح جموںکشمیر تنظیم نو ایکٹ میں ترمیم کی بل لا رہے ہیں تو… تو کشمیر میں ایسا کوئی نہیں تھا جو اس بریکنگ نیوز کی اپنی تشریح کرنے لگا… اور تجزیہ بھی ۔ہاں جو کیفیت ہم نے اوپر بیان کی وہ یقینا اُن کی رہی ہو گی جنہوں نے ۱۵؍ اگست کی تقریر میں اس بات کا اعتراف کیا تھاکہ انہیں پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس سے امید لگانے کا مشورہ دیا گیا تھا اور انہوں نے امید لگائی بھی تھی… منگل کی شام کو بھی ان کی نا امیدی کی کوکھ سے ایک نئی امید نے جنم لیا ہو گا … لیکن صاحب ہمیں بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ… کہ ان کی امید … نوزائیدہ امید بدھ کی دوپہر ہونے تک دم تو ڑ گئی… لیکن اس نے ان میں ایک خوف اور ایک ڈر کو ضرور پیدا کیا ہو گا… وہ خوف اور وہ ڈر… جس سے ساری اپوزیشن ڈر رہی ہے… ڈر گئی ہے… آئین کی ۱۳۰ویں ترمیمی بل سے ۔ ہے نا؟




