جمعہ, جون 5, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

عاصم منیر کا بیان:بھارت ایٹمی بلیک میل نہیں ہو گا  

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-08-12
in اداریہ
A A
آگ سے متاثرین کی امداد
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

بات چیت ہی مسائل کا حل:

مئی میں آپریشن سندور کے بعد وزیر اعظم‘ نریندرا مودی نے واضح کیا تھا کہ بھارت کسی بھی ایٹمی بلیک میل کو برداشت نہیں کرے گا‘ اور آج جب پاکستان کے آرمی چیف ‘ فیلڈ مارشل آصم منیر نے کھلی ایٹمی دھمکی دی ہے تو بھارت کا ایک بار پھر یہی جواب ہو گا کہ دنیا کی کوئی طاقت بشمول پاکستان بھارت کو ایٹمی بلیک میل نہیں کر سکتا ہے ۔
۶/۷سے ۱۰ مئی تک بھارت نے پاکستان اور اس کے زیر قبضہ کشمیر میں پہلے دہشت گردانہ ٹھکانوں اور بعد ازاں اس ملک کے فضائیہ کے اڈوں پر جو کامیاب حملے کئے ‘ اس سے ان اڈوں کو بھاری نقصان پہنچایا اس سے ہوئی مایوسی کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی جائے ۔
پاکستان کے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر  کی امریکی شہرٹمپا، فلوریڈا میں دی گئی کھلی ایٹمی دھمکی نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ کیا یہ پاکستان کی اسٹریٹجک پالیسی میں نئی اور غیر ذمے دارانہ تبدیلی ہے یا محض داخلی سیاست کا ہتھیار؟
۱۰؍ اگست ۲۰۱۵ کو امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں پاکستان کے آرمی چیف نے ایک ایسا بیان دیا جس نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی۔ انہوں نے کہا’’ہم ایک ایٹمی قوم ہیں۔ اگر ہمیں لگا کہ ہم ڈوب رہے ہیں، تو ہم دنیا کا آدھا حصہ اپنے ساتھ لے ڈوبیں گے‘‘۔یہ الفاظ نہ صرف اشتعال انگیز ہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے ایٹمی توازن کے بنیادی ڈھانچے کو چیلنج کرتے ہیں۔
ایٹمی ہتھیار عالمی سیاست میں ’آخری آپشن‘ کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد دشمن کو روکنا ہوتا ہے، نہ کہ کھلے عام دھمکی دینا۔ عاصم منیر کا یہ بیان ایٹمی پالیسی کو بلیک میلنگ کے آلے میں بدل دیتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف عالمی قوانین اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ پاکستان کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔
ایسی دھمکیاں کسی بھی معمولی سرحدی جھڑپ یا دہشت گرد حملے کو ایٹمی تصادم کے بہانے میں بدل سکتی ہیں۔ بھارت، جو’نو فرسٹ یوز‘ پالیسی رکھتا ہے، اس قسم کے بیانات کے بعد اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کر سکتا ہے، جس سے خطے میں اسلحہ کی دوڑ اور کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہوگا۔
پاکستان اس وقت معاشی بحران، آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور عوامی بے چینی کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق عاصم منیر یہ بیانات اندرونِ ملک اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور فوج کی کمزور ہوتی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے دے رہے ہیں۔ بھارت مخالف بیانیہ ماضی میں بھی پاکستان میں سیاسی و فوجی مقبولیت کا فوری نسخہ رہا ہے۔
ایسی دھمکی امریکی سرزمین سے دینا، واشنگٹن اور دیگر عالمی دارالحکومتوں کو پاکستان کے ایٹمی کمانڈ اینڈ کنٹرول پر سوال اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو سفارتی تنہائی، معاشی پابندیوں اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے نقصانات اٹھانے پڑ سکتے ہیں۔
عاصم منیر نے دریائے سندھ پر بھارت کے ڈیم بنانے کے منصوبے کو بھی ایٹمی جنگ کا جواز قرار دیا اور کہا کہ ’دس میزائل‘ مارے جائیں گے، جس سے ۲۵ کروڑ لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔ یہ ۱۹۶۰ کے سندھ طاس معاہدے کی روح اور دہائیوں پرانی سفارتی روایت کو برباد کرنے کے مترادف ہے۔
بھارت کے سکیورٹی ماہرین نے اس بیان کو ؔخودکشی‘ قرار دیا۔ امریکی کانگریس مین رو کھنہ نے عاصم منیر کو ’ڈکٹیٹر‘ کہا اور عالمی برادری سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ اگر اس قسم کی دھمکیاں معمول بن گئیں تو دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال محض وقت کی بات رہ جائے گا۔
جنرل منیر کا بیان، اگرچہ پاکستان کی اعلان کردہ ایٹمی حکمتِ عملی سے مطابقت رکھتا ہے، لیکن یہ لفاظی میں ایک خطرناک اور منفی اضافہ ہے۔ یہ طویل المیعاد اسٹریٹجک استحکام کے بنیادی تقاضے کے مقابلے میں قلیل المیعاد اندرونی علامتی سیاست اور ڈرانے دھمکانے پر مبنی رویے کو ترجیح دیتا ہے، حالانکہ یہ خطہ تقریباً دو ارب آبادی کا حامل ہے۔ ذمہ دار ایٹمی طاقتوں کو چاہئے کہ وہ صبر و تحمل اور سفارتی روابط پر زور دیں، نہ کہ عوامی سطح پر ایٹمی دھمکیوں کا مظاہرہ کریں۔
پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بیان پاکستان کی سفارتی ساکھ، خطے کے امن اور عالمی ایٹمی توازن تینوں کے لیے خطرہ ہے۔ اگر اسلام آباد نے اس رویے کو جاری رکھا تو یہ  خود پاکستان کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوگا۔ایٹمی ہتھیار انسانیت کے تحفظ کے لیے آخری ہتھیار ہیں، نہ کہ اندرونی سیاست اور جارحانہ بیانیے کا ایندھن۔
بیان میں پوشیدہ پاکستانی جنرل کی دھمکی بھارت کی اس تشویش ‘ جس کا اظہار آپریشن سندور کے دوران وزیر دفاع‘ راج ناتھ سنگھ نے یہ کہہ کر کیا تھاکہ کیا پاکستان جیسے غیر ذمہ دار  قوم کے ہاتھوں میں موجود ایٹمی ہتھیار محفوظ ہیں؟‘کے عین مطابق ہے۔وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا’ ’میرا ماننا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں لیا جانا چاہیے‘‘۔
جنرل آصم منیر کی اس دھمکی نے یہ ثابت کردیا کہ بھارت کی تشویش حق بہ جانب تو ہے ہی لیکن اگر ہمسایہ ملک یا اس کی فوجی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ ان دھمکیوں سے وہ بھارت کو مرعوب کر سکتی ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی اور تاریخی غلطی ثابت ہو سکتی ہے ۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے پاکستانی جنرل کے اس بیان کی مذمت تو کی ہی ساتھ ہی کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری اس طرح کے تبصروں میں موجود غیر ذمہ داری کے بارے میں اپنے نتائج اخذ کر سکتی ہے ، جس سے ایسی ریاست میں جوہری کمان اور کنٹرول کی سالمیت کے بارے میں شکوک و شبہات کو بھی تقویت ملتی ہے جہاں فوج دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سیاست اور غیر سیاسی لوگ

Next Post

ایل جی کو۵ممبران کی نامزدگی کا اختیار

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر کی سیاسی جماعتیں سبق نہیں سیکھیں گی

2026-06-04
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بات چیت ہی مسائل کا حل:

2026-06-03
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عمر عبداللہ حکومت:

2026-06-02
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

حج انتظامات اور جموں و کشمیر :  آخر عازمین کے مسائل کب ختم ہوں گے؟

2026-05-31
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

عید الاضحیٰ، قربانی کے جانور اور حکومتی بے حسی

2026-05-30
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

عید الاضحی :آج کے دن بھی کچھ لوگ خوشیوں سے محروم ہیں!

2026-05-27
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

بڈگام کی بیٹی اور ہمارا زخمی معاشرہ

2026-05-26
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

قربانی کے جانوروں کی من مانی قیمتیں

2026-05-24
Next Post
’عام آدمی کو تحفظ کا احساس دلانا ہماری ترجیح ہو نی چاہئے ‘

ایل جی کو۵ممبران کی نامزدگی کا اختیار

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.