دفعہ ۳۷۰ اور۳۵؍اے کی منسوخی کو آج چھ سال مکمل ہو گئے ہیں ۔ ان چھ برسوں میں جموںکشمیر میں ایک بدلاؤ… ایک واضح بدلاؤ آیا ہے ۔یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ۶ سال پہلے اس خصوصی آئینی شق کی منسوخی نے جموںکشمیر کو مکمل طور پر بدل کے رکھ دیا ہے ۔
لوگوں کی عام زندگی اور ان کے معاملات بدل گئے ہیں یا پھر وہ معمول پر آگئے ہیں ۔۱۹۸۹ سے ۲۰۱۹ تک کشمیر میں سب کچھ بدل دیا گیا تھا ‘لوگ جی تو رہے تھے ‘ لیکن ان کی عام زندگی ‘ان کے روز مرہ کے معاملات کو بدل دیا گیا تھا ۔ اگست ۲۰۱۹ کے بعد ان کی معمول کی زندگی کی بحالی کا جو سفر شروع ہوا وہ اپنی پوری رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے … اپنی منزل کی جانب اور یہ منزل ‘ امن ‘ سکون ‘ ترقی اور خوشحال کے ساتھ ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق زندگی کو جینا ہے ۔
نریندر مودی حکومت کی جانب سے آرٹیکل ۳۷۰ کو ختم جئے چھ سال گزر چکے ہیں اور اب یہ تبدیلی صرف اعداد و شمار میں نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں، خواہشات اور وقار کی بحالی میں نمایاں ہے۔ محرم کے جلوسوں کا پرامن انعقاد، جو کبھی سکیورٹی خدشات کی بنا پر سخت پابندیوں کی زد میں رہتا تھا، اب خطے میں بڑھتے ہوئے استحکام کا ثبوت ہے۔ اسی طرح لال چوک میں جنم اشٹمی کی تقریبات کا عشروں بعد انعقاد، صرف تہوار کی واپسی نہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی روایات کی بحالی کی بھی ایک مثال ہے۔
کئی دہائیوں تک جموں کشمیر کو دیا گیا خصوصی درجہ اسے قومی اصلاحات سے الگ تھلگ رکھے ہوئے تھا، جس کی وجہ سے نجی سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کی رفتار سست رہی۔ لیکن اب سرمایہ کاروں کی نظر کشمیر پر ہے، اور سیاحت، ریئل اسٹیٹ اور صنعتی منصوبوں میں نمایاں ترقی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
ایک نمایاں تبدیلی روزمرہ زندگی میں معمول کی واپسی ہے۔ وہ سڑکیں جو کبھی ہڑتالوں اور احتجاجوں کی وجہ سے سنسان رہتی تھیں، اب مصروف بازاروں اور دیر تک کھلے کاروباروں سے آباد ہیں۔ وادی، جو کبھی سنگ باری اور ہڑتالوں کا گڑھ سمجھی جاتی تھی، آج ایک غیر معمولی تبدیلی کا مشاہدہ کر رہی ہے… منظم سنگ باری کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے اور بازار بغیر کسی خوف کے کھلے رہتے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر ہوئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو اجاگر کیا ہے۔ بہتر سیکیورٹی حالات نے عوام میں اعتماد کو فروغ دیا ہے، جس سے تعلیم اور روزگار کے مواقع کو بھی تقویت ملی ہے۔
اصل کامیابی عام عوام کی زندگیوں میں بہتری ہے۔ خطے میں عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں واضح کمی آئی ہے۔۲۰۰۴ سے۲۰۲۴ کے درمیان جموں و کشمیر میں۷۲۱۷ دہشت گردی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ ۲۰۱۴ سے ۲۰۲۴ کے درمیان یہ تعداد کم ہو کر۲۲۴۲ رہ گئی۔ عام شہریوں کی ہلاکتوں میں۸۱ فیصد کمی آئی ہے، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں بھی نصف ہو گئی ہیں۔
یہ احساس تحفظ اور استحکام خطے میں مضبوط معاشی بحالی کا محرک بن رہا ہے۔ امیت شاہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت کے ترقیاتی اقدامات محض معاشی ترقی نہیں بلکہ عوام کو مواقع فراہم کرنے کے لیے ہیں۔
۲۰۱۵ میں وزیر اعظم مودی نے جموں و کشمیر کی ترقی کیلئے۸۰ہزار کروڑ روپے کے ۶۳ منصوبے منظور کیے تھے، جن میں سے۵۱ہزار کروڑ روپے پہلے ہی خرچ کیے جا چکے ہیں۔ مرکزی حکومت کی نئی صنعتی پالیسی نے خطے میں بے مثال سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے۔
گزشتہ ۷۰ برسوں میں جموں و کشمیر کو محض ۱۴ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ملی تھی، لیکن گزشتہ دہائی میں ہی ۱۲ہزار کروڑ روپے کی صنعتی سرمایہ کاری آ چکی ہے اور مزید ایک لاکھ دس ہزار کروڑ روپے کے ایم او یوز پر کام جاری ہے۔ سرینگر اور جموں کی سڑکوں پر یہ معاشی تبدیلی نمایاں ہے، جہاں نئے کاروبار فروغ پا رہے ہیں اور روزگار کے مواقع تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
۲۰۲۴ میں سیاحوں کی آمد۳۶ء۲ کروڑ کی اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جس میں غیر ملکی سیاح (۶۵ہزار) شامل ہیں۔ ۲۰۲۴امرناتھ جی (۱۲ء۵ لاکھ) اور امسال ۱۴ء۴ لاکھ جبکہ شری ماتا ویشنو دیوی میں (۵۶ء۹۴ لاکھ) عقیدت مندوں نے زیارت کی ۔یہ اضافہ نہ صرف معیشت کو تقویت دے رہا ہے بلکہ دیگر ریاستوں سے تعلقات بھی مضبوط ہو رہے ہیں۔ جہاں کبھی دہشت گردی کی وجہ سے سیاح جانے سے گھبراتے تھے، وہیں اب دلکش ڈل جھیل اور گل مرگ جیسے حسین مقامات نے جی۲۰ کے سیاحتی ورکنگ گروپ کی میزبانی کر کے دنیا کو کشمیر کی بدلی ہوئی صورت حال کا یقین دلایا ہے۔
مزید برآں، حکومت نے ایسے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے مکمل کیے ہیں جو طویل عرصے سے زیر التوا تھے۔ اہم سرنگوں اور شاہراہوں کی تکمیل نے رابطہ بہتر بنایا ہے اور کشمیر سے باقی ہندوستان تک سفر کے وقت کو کم کیا ہے۔ ریلوے نیٹ ورک کی توسیع سے خطے کو قومی ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ مزید جوڑا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں آنے والی تبدیلیاں ناقابلِ واپسی ہیں اور حکومت خطے میں دیرپا امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی محض آئینی تبدیلی نہیں تھی بلکہ یہ ایک انقلابی لمحہ تھا جس نے جموں و کشمیر کو دہائیوں کی سیاسی جمود اور علیحدگی پسندی سے آزاد کیا۔ وہ لوگ جو نسلوں سے غیر یقینی کے سائے میں جی رہے تھے، اب امن، خوشحالی اور ترقی کی ایک نئی صبح کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
پچھلے ۳۰ برسوں میں پہلی بار کشمیری عوام سنیما ہال جا کر، ٹکٹ خرید کر، اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ بڑی اسکرین پر فلم دیکھنے کا وہ تجربہ حاصل کر رہے ہیں جو کبھی صرف ایک خواب محسوس ہوتا تھا۔ آرٹیکل ۳۷۰ کی منسوخی سے قبل، ۲۰۱۹ تک، ایسی معمولی خوشیاں بھی عوام کی پہنچ سے دور تھیں۔ آج ان سنیما گھروں کا دوبارہ کھلنا صرف تفریح کی واپسی نہیں بلکہ تبدیلی کی ایک طاقتور علامت ہے، جو جموں و کشمیر کے معمولاتِ زندگی کی بحالی اور امن کی نئی صبح کا پیغام دے رہا ہے۔





