نئی دہلی// اپوزیشن اراکین نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ترمیمی بل کو راجیہ سبھا میں بغی تفصیلی بحث کے پیش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے مناسب بحث کے لیے وزارت داخلہ کی متعلقہ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا، جب کہ حکمراں جماعت نے ریاستی حکومتوں پر ریاستی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی بٹالین تشکیل نہ دینے کا الزام لگایا۔
مغربی بنگال کی ریتابرت بنرجی نے آج ایوان میں بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس بل کو بغیر مناسب بحث کے پیش کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں قدرتی آفات سے نمٹنے اور ان سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کا حل تلاش کرنے کے بارے میں کوئی تفصیلی بحث نہیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے اس لیے اسے وزارت داخلہ کی متعلقہ کمیٹی کو نظرثانی کے لیے بھیجا جانا چاہیے ۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بل میں ریاستوں کے مالی حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے اور ریاستوں کو مرکز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت ریاستی حکومتوں کو آفات کے بعد راحت اور بچاؤ کے کاموں کے لیے ضرورت کے مطابق مناسب فنڈ فراہم نہیں کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے اور مغربی بنگال اس کی ایک مثال ہے کیونکہ اسے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے صرف سات فیصد رقم ادا کی گئی ہے ۔
دراوڑ منیترا کزگم کے آر گری راجن نے بھی کہا کہ بل میں وفاقی موضوعات پر وضاحت کا فقدان ہے اور کہا کہ اسے واپس لیا جانا چاہئے اور وسیع تر غور و خوض کے بعد ایوان میں پیش کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستوں کو آفات کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب فنڈ نہیں دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیزاسٹر رائٹس کو قانونی حقوق بنایا جائے ۔
کانگریس کے نیرج ڈانگی نے کہا کہ بل کی دفعات اختیارات کی مرکزیت پر مرکوز ہیں اور جوابدہی کی کمی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بل میں نئے اربن ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام سے افسر شاہی کی مداخلت میں اضافہ ہوا ہے جو کہ غیر ضروری ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آفات کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے شروع کی گئی راحت اور بچاؤ کارروائیوں میں سرکاری اداروں اور سرکاری محکموں کے درمیان تال میل کا فقدان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ فنڈ سے ڈیزاسٹر ریلیف کے لیے مناسب رقم جاری نہیں کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بل میں ترمیم کے باوجود ماہرین کو شامل کرنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا ہے ۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن برج لال نے کہا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ بنیادی طور پر ریاستوں کا موضوع ہے اور مرکزی حکومت انہیں اس کے لیے ضروری وسائل فراہم کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آفات سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی 16 بٹالین ہیں جنہیں آفات سے متاثرہ ریاستوں میں تعینات کیا گیا ہے ۔
بی جے پی رکن نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اپنی سطح پر این ڈی آر ایف بٹالین بنانے کے لیے 19 ریاستوں کو 6000 کروڑ روپے جاری کیے تھے ، لیکن اب تک صرف 15 ریاستوں نے ہی ایسی بٹالین تشکیل دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترمیمی بل پرانے بل میں موجود خامیوں کو دور کرنے اور ریاستوں اور مرکزی حکومت کے اداروں کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنے کے لیے لایا گیا ہے ۔









