کشمیر … جموں کشمیر کے بے تاج بادشاہ ‘ اپنے ایل جی ‘ منوج سنہا صاحب اب زیادہ باتیں کرتے نظر نہیں آ تے ہیں… خاموش خاموش سے ہیں اورخاموش خاموش رہتے ہیں… حالانکہ خاموش رہنا‘ خاموش بیٹھنا ان کے مزاج ‘ ان کی طبیعت کیخلاف ہے… کہ ہم نے گزشتہ تین چار برسوں میں انہیں جتنی باتیں کرتے دیکھا ہے‘ اتنی کسی کو نہیں دیکھا … بالکل بھی نہیں ۔ ایسی باتیں ‘ ایسے دعوے کہ بندہ حیران ہو جائے کہ یہ ہم کہاں آگئے ہیں ‘ ہم کشمیر میں ہی ہیں یا کہیں اور… اور کہ ان جناب کی باتوں سے…۳۷۰ کی منسوخی کی بعد کی باتوں سے ہم کیا کسی کو بھی یہ تاثر ملتا تھا کہ صاحب اب سچ میں کشمیر میں… جموں کشمیر میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں… چار سو خاموشی ہے… سڑکوں پر کوئی آ نہیں رہا ہے… کسی چیز ‘ کسی سہولت اور خدمات کا مطالبہ نہیں کررہا ہے…مختصر یہ ہے ایل جی صاحب کی باتوں سے لگتا تھا کہ بھلے ہی اپنا بھارت دیش ۲۰۴۷ تک وکست… یعنی ترقی یافتہ ہو جائیگا … کشمیر ‘ جموں کشمیر ترقی یافتہ ہو گیا ہے … اس نے ترقی حاصل کی ہے… لیکن… لیکن جناب ہمیں کیا خبر تھی کہ صاحب ایسا ویسا کچھ نہیں ہے… اور بالکل بھی نہیں ہے ، کشمیر میں دودھ اور شہد کی کوئی نہر نہیں بہہ رہی ہے … حتیٰ کہ جن نہروں میں پانی بہا کرتا تھا آج وہ بھی سوکھی پڑی ہیں کہ… کہ یہ ہم نہیں بلکہ بی جے پی والے کہہ رہے ہیں… حساب مانگ رہے ہیں ‘ ایل جی صاحب کے چار سالہ دور اقتدار کا نہیں بلکہ عمرعبداللہ کی چار ماہ کی حکومت سے حساب مانگ رہے ہیں کہ دور دراز علاقوں میں نل پیاسے کیوں ہیں… ان میں پانی کیوں نہیں ہے … اور ہا ں اب ہماری سڑکیں پھر سے آباد ہونے لگی ہیں … احتجاج ‘ مظاہروں اور دھرنوں سے آباد ہو رہی ہیں کہ… کہ جموں اور سرینگر میں یومیہ اجرات پر کام کرنے والے مستقلی کے مطالبے کو لے کر احتجاج کررہے ہیں ۔ آنگن واڑی ورکر بھی تنخواہوں میں اضافے کو لے کر شور کررہے ہیں… لگتا ہے کہ گزشتہ چار پانچ برسوں کے دوران جب ایل جی صاحب باتیں اور صرف باتیں کررہے تھے تو کشمیر … جموں کشمیر خاموش تھا… اور اب جبکہ کشمیر… جموں کشمیر باتیں کرنے لگا ہے تو…تو جموںکشمیر کا بے تاج بادہ خاموش ہو گیا ہے۔ ہے نا؟




