کشمیر کا سیاسی منظرنامہ کشمیریوں کے لئے کسی بھی دور میں اطمیان بخش نہیںرہا، ہوس اقتدار، تحفظ اقتدار اور اس حوالہ سے حصول مراعات اور دبدبہ سیاست سے وابستہ شخصیات کا بحیثیت مجموعی اوڑھنا بچھونا رہا ہے۔ اوسط سیاسی شخصیات کی ہوس اقتدار کی تڑپ تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اپنے وقت کی قدآور اور بلند مرتبت سیاسی شخصیات کی چاہت اقتدار کی باتیں اور کوششیں باعث حیرت رہی ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ جب اندرا …شیخ اکارڈ کے تعلق سے مذاکرات کا سلسلہ چل رہا تھا تو آثار شریف حضرتبل میں نمازیوں کے ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرحوم شیخ محمدعبداللہ کے دست راست اور وقت کے معتمد خاص (مرحوم) مرزا محمدافضل بیگ نے مختلف معاملات پر اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’’اگر معاملات فوری طور سے طے نہیں پائے تو ہم اُوپر سے چھت پھاڑ کر اقتدار حاصل کریں گے‘‘ اور دوسرا اعلان یہ کیا کہ ’’اگر بجلی کالائن مین کنکشن منقطع کرنے کیلئے بجلی کے کھمبے پر چڑھتا دکھائی دے تو نیچے سے سیڑھی ہٹا کر اسے سبق سکھایا جائے‘‘۔ ان دونوں اعلانات پر لوگوں نے والہانہ انداز میں تالیاں بجائی اور بیگ صاحب مرحوم لوگوں کا یہ والہانہ اور پُرجوش ردعمل دیکھ کر سٹیج پر فخر سے سینہ تان کر لوگوں کے ’استقبال‘ کا ہاتھ ہلا ہلا کر جواب دیتے رہے۔ بے شک لوگوںنے ان دونوں اعلانات پر والہانہ خیر مقدم کیا لیکن ان کی فہم اُسی حد تک تھی۔
دراصل اقتدار کی واپسی کی چاہت کے پیچھے قوم کے ان دو بڑے لیڈروں کی ۲۲؍ سالہ صحرانوردی (سیاسی آوارہ گردی) کی تھکاوٹ اور محرومیوں کا نتیجہ تھی۔ بُنیادی اشوز جو کچھ بھی اُس دور سے وابستہ تھے انہیں ایڈریس کرنے کی بجائے یہ لنگڑا استدلال اور بیہودہ منطق اس اپروچ کے ساتھ پیش کی گئی ’چونکہ جہلم کا بہت سارا پانی اس مدت کے دوران بہہ کر سمندر میں جذب ہوچکا ہے اور گھڑی کی سوئیوں کوواپس موڈا نہیں جاسکتا‘ لہٰذا آج کی تاریخ میں جو زمینی حقیقت ہے (عوامی اشوز کو قربان کرکے اقتدار کی واپسی کو ترجیح دے کر ) اُسی کے مطابق آگے قدم بڑھایاجائے۔
غرض قدآور سیاسی شخصیات کیلئے حصول اقتدار کی خواہش اگر اُس دورمیں معیوب نہیں سمجھی جاتی تھی توآج جبکہ دس سالہ محرومی کے بعد الیکشن کا بگل بجادیاگیا، الیکشن کمیشن اپنے اس فیصلے پر فخر کے ساتھ سینہ تان رہا ہے سیاسی اُفق سے وابستہ کم وبیش سبھی حضرات چاہے انفرادی سطح پر ہے یا پارٹیوں سے وابستگی رکھتے ہیں الیکشن میدان میںاُترنے کیلئے ماہی بے آب کی طرح تڑپتے دکھائی دے رہے ہیں، کوئی اپنے لئے پارٹی کے اندر ماحول کو ساز گار نہ پاکر دستبردار ی کا اعلان کرکے کسی دوسری پارٹی کی صف میں سجدہ ریز ہوتا جارہاہے، ایک پارٹی سے نکلنے اور دوسری میں پناہ گزین ہونے کی دوڑسی لگ گئی ہے، یہ لوگ اپنی اس آواجاہی کے دفاع میں اور عوام کو درپیش گوناگوں حساس نوعیت کے مسائل پر بات نہیں کرتے اور نہ پارٹیوں سے اپنی اپنی دستبرداری کی وجہ قرار دے رہے ہیں بلکہ بڑا گلہ یہ ہے کہ انہیں منڈیٹ سے محروم کیاگیا، ان کا یہ طرزعمل اس بات کو اضح کررہا ہے کہ وہ ہوس اقتدار ،حصول اقتدار ، حصول مراعات اور دبدبہ کیلئے سب کچھ کررہے ہیں، دائو پر لگارہے ہیں، لوگوں کے لئے عمومی طور سے ان لوگوں کی یہ کوٹ بدلی زیادہ اہمیت کی حامل نہیں بلکہ وہ اس کوٹ بدلی کو اپنی اپنی صوابدید کے مطابق کچھ اور نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔
بحیثیت مجموعی اس ساری صورتحال، سیاسی لیڈر شپ کے دعویداروں اور سیاسی پارٹیوں کے اندازفکر، سیاسی اہداف اور مشن اور طرزعمل کو سامنے رکھتے ہوئے یہی بات اُبھرکرسامنے آجاتی ہے کہ کشمیر نشین سیاسی قبیلوں کو اس بات کی زیادہ فکرنہیں کہ لوگوں کو جن سنگین نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے ان کا حل کیسے تلاش کیاجائے، لوگوں کے جوبشری ، معاشی، سیاسی ،تہذیبی ،تمدنی اور لسانی حقوق اور ان حقوق سے جڑے جو کچھ بھی حساس یا غیر حساس مفادات وابستہ ہیں ان کا حصول اور تحفظ کو کیسے یقینی بنایاجاسکے، برعکس اس کے ہرسیاسی پارٹی سے وابستہ عہدیدار یا اوسط کارکن خود کو رکن اسمبلی بنتا دیکھنے کی خواہش پال رہا ہے ، تعجب اور حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ عوامی سطح پر بھی بحیثیت مجموعی لوگوں کے اندر بے اعتنائی کے جراثوم سرائیت کرکے گھر کرچکے ہیں۔
موازنہ کریں تو جموں کی سول سوسائٹی انہی سے ملتے جلتے معاملات اور مسائل کے تعلق سے فعال اور متحرک ہے، مطالبات بھی کررہے ہیں اور جدوجہد کے مختلف طریقے بھی اختیار کررہے ہیں۔ معاملات کا حل تلاش کرنے اور ایڈمنسٹریشن کی توجہ ان معاملات کی طرف مبذول کرانے کیلئے سڑکوں پر آکر ہنگامہ آرائی یا نعرہ بازی کا شور وشر بلند کرنا آپشن نہیں بلکہ جمہوری اور پرامن طریقوں کو اختیار کرکے درپیش معاملات کا باہم روابط اور مفاہمت کے جذبے کے ساتھ حل تلاش کرنے کی راہیں ہموار کی جاسکتی ہیں ۔
ٍ سیاسی پارٹیاں اس خود فریبی میں مبتلا ہیں کہ اپنے چنائو منشور وں میں ماہانہ کچھ بجلی یونٹ مفت فراہم کرنا ہی لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کے بعد دوسری پارٹی مفت بجلی فراہم کرنے کے اعلانات کرتی جارہی ہے۔ جبکہ اسی شعبے کے تعلق سے بعض بے حد حساس اور عوامی مفادات کے حامل اشوز پر ہر پارٹی خاموش ہے۔ عوامی جبکہ جموں وکشمیر کے مجموعی مفادات کے حوالہ سے سیاسی پارٹیوں کا یہ طرزعمل مجرمانہ تصور کیاجارہاہے۔
ایک سیاسی پارٹی گذشتہ چار پانچ سال سے مسلسل یہ دعویٰ کرتی رہی کہ اُس نے زمین کے ملکیتی حقوق کے تحفظ، سرکاری ملازمتوں کے حصول میں سو فیصد مقامی بھرتی اور دوسرے حساس نوعیت کے معاملات پر مرکز سے تحفظات نہ صرف حاصل کرلئے ہیں بلکہ ان معاملات پر تحفظ کی یقین دہانیاں بھی حاصل کرلی ہیں لیکن اب یہی پارٹی انہی حساس نوعیت کے اشوز پر یوٹرن لے کران کے تحفظ کی جنگ لڑنے کی باتیں کررہی ہیں۔ زیادہ واضح الفاظ میں اس یوٹرن پر منشور میں کہا گیا ہے کہ ’’پارٹی ترمیم شدہ قوانین کی بحالی، زمین اور ملازمتوں کا تحفظ اور مائیگرنٹ کشمیری پنڈتوں کی واپسی کیلئے جنگ لڑ ے گی‘‘۔
اگر چہ ہر پارٹی کا اپنا اپنا نظریہ، موقف اور منشور ہے لیکن ان کا اندازفکر اور پروچ بحیثیت مجموعی یکساں ہے۔ ان پارٹیوں کی لیڈر شپ لوگوں کو یا تو اپنے لئے تسخیر شدہ شئے تصور کررہے ہیں یا شعوری اور فہم کے اعتبار سے ناسمجھ اور بے وقوف ! البتہ المیہ کہے یا بدقسمتی لوگ بھی موقعہ ہاتھ آنے پر اپنی چاہتوں اور ضرورتوں کے تعلق سے اپنا نظریہ دوٹوک الفاظ میں پیش نہیں کرتے بلکہ ووٹ پر اپنی مہر تصدیق ثبت کرتے وقت قربت، وابستگی، وفاداری، پسند ناپسند اور زیادہ ترہمسائیگی کوہی ترجیح دیتے رہے ہیں، جس کا خمیازہ بعد میں آ نے والے مہینوں سالوں میں خود لوگوں کو ہی بھگتنا پڑرہا ہے۔ وہ ہوش سے نہیں عموماً جوش اور جذبات سے کام لے رہے ہیں جس کا ناجائز فائدہ یا غلط استعمال سیاست سے وابستہ حضرات اُٹھاتے رہے ہیں۔
غالباً اسی اندازفکر اور طرز عمل سے چوٹ کھاکر کسی نے کہاتھا:
’’ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات‘‘





