سرینگر؍۱۵ستمبر
بھارت نے منگل کو پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود کالعدم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے، بجائے اس کے کہ جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے بارے میں ’’جعلی اعلان‘‘ کے ذریعے انعامی رقم بڑھانے جیسے ’’ڈراموں‘‘ کا سہارا لیا جائے۔
پاکستان نے کئی برس سے مسعود اظہر کے بارے میں۷۰ لاکھ پاکستانی روپے کے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔
بھارت کو متعدد دہشت گرد حملوں میں مطلوب مسعود اظہر پر۲۰۰۱ میں پارلیمنٹ پر حملے،۲۰۱۶ میں پٹھان کوٹ فضائی اڈے پر حملے اور۲۰۱۹ میں پلوامہ خودکش حملے سمیت کئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
دسمبر۱۹۹ میں کھٹمنڈو سے قندھار جانے والی پرواز آئی سی۸۱۴ کے اغوا کے بعد مسافروں کی رہائی کے بدلے بھارت نے مسعود اظہر سمیت تین دہشت گردوں کو رہا کیا تھا۔ مسعود اظہر پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے باقاعدہ میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے مسعود اظہر کے بارے میں انعامی رقم بڑھانے سے متعلق سوال پر کہا، ’’میں صرف اتنا کہوں گا کہ پاکستان کی جانب سے اس طرح کے ڈرامے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کوئی نئی بات نہیں۔ ہم ماضی میں بھی اس طرح کے کئی ڈرامے دیکھ چکے ہیں۔‘‘
جیسوال نے کہا، ’’دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست کی جانب سے اس طرح کے جعلی اعلانات کی حقیقت سب جانتے ہیں کہ یہ کتنے کھوکھلے ہیں۔ پاکستان کو کارروائی کرنی چاہیے، نہ کہ ایسے جعلی اعلانات کرنے چاہئیں جن کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘
پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ انہیں مسعود اظہر کے موجودہ ٹھکانے کا علم نہیں اور وہ افغانستان فرار ہو چکا ہے، تاہم نئی دہلی اسلام آباد پر جیشِ محمد کے سربراہ کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔
مئی۲۰۲۵ میں پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں بھارت کی جانب سے بہاولپور میں جیشِ محمد کے مرکزی اڈے کو نشانہ بنانے کے دوران مسعود اظہر کے کئی رشتہ دار بھی مارے گئے تھے۔
افغان طالبان حکومت نے بھی پاکستان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ مسعود اظہر افغانستان میں موجود ہے۔
مسعود اظہر کے بارے میں انعامی رقم سے متعلق پاکستان کی جانب سے دوبارہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے دہشت گرد گروپوں اور ان کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کے لیے پاکستان پر دباؤ برقرار ہے۔ عالمی ادارہ آئندہ ماہ اپنے اجلاس میں پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی اقدامات کا جائزہ لینے والا ہے۔
پاکستان کو۲۰۱۸سے۲۰۲۲کے دوران ایف اے ٹی ایف کی ’’گرے لسٹ‘‘ میں رکھا گیا تھا، جس کی ایک بڑی وجہ دہشت گردوں کی مالی معاونت، بالخصوص جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنا تھی۔
ایف اے ٹی ایف اور مغربی ممالک کے دباؤ کے نتیجے میں پاکستان نے دونوں تنظیموں کے رہنماؤں کے خلاف متعدد اقدامات کیے۔
مسعود اظہر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مئی۲۰۱۰۹ میں عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا، جب چین نے اس کی نامزدگی کی راہ میں موجود اپنی رکاوٹ ختم کر دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔
(ویب ڈیسک)










