نئی دہلی ،18جولائی (یواین آئی) وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کو ہندوستان کی جدید اور بہترین دفاعی تیاریوں کا ثبوت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تیاریاں سرکار کی گزشتہ 12 برسوں کی مسلسل کوششوں سے اور بہتر ہوئی ہیں اور یہ ملک سب سے بالاتر اور فوج سب سے بالاتر کے جذبے سے متاثر ہیں۔
مسٹر سنگھ نے ہفتہ کو یہاں ایک پروگرام میں آپریشن سندور کو ہندوستانی دفاعی فورسز کی بے مثال بہادری کی یاد دلانے والا بتایا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے دہشت گردوں اور انہیں پناہ دینے والوں کو منہ توڑ جواب دیا، جو دہشت گردی کے خلاف سرکار کے سخت موقف کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ‘دہشت گردی کوقطعی برداشت نہ کرنا’ صرف ایک بیان نہیں، بلکہ کارروائی کا ایک طریقہ ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ ہندوستان دہشت گردی کے خلاف نہ صرف اپنی سرحد پر، بلکہ ان کے گڑھ میں گھس کر بھی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ آپریشن سندور جیسے مشکل آپریشن کو کامیابی کے ساتھ پورا کرنے میں ہندوستان کے بدلے ہوئے دفاعی شعبے نے اہم کردار نبھایا۔ انہوں نے اسے ٹیکنالوجی پر مبنی جنگ کی ایک شاندار مثال اور ہندوستانی صنعتوں پر سرکار کے بھروسے کا ثبوت بتایا۔ انہوں نے کہا، "آپریشن کے دوران آکاش تیر، آکاش میزائل سسٹم اور برہموس جیسے ایڈوانسڈ سسٹم کے ساتھ ساتھ کئی دیگر جدید ترین آلات کا موثر طریقے سے استعمال کیا گیا۔ یہ سب گزشتہ 12 برسوں میں رکھی گئی مضبوط بنیاد کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔”
دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دینے کے لیے سرکار کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر راجناتھ سنگھ نے بتایا کہ دفاعی فورسز کی جانب سے اب تک دفاعی ساز و سامان کی ملکی پیداوار سے متعلق پانچ مثبت فہرستیں جاری کی گئی ہیں جن میں 509 آلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دفاعی پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز کے ذریعے بھی پانچ ایسی فہرستیں جاری کی گئی ہیں جن میں 5,012 آلات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا، "جیسے جیسے ہم ایک خود انحصار اور بااختیار دفاعی شعبہ بنانے کی سمت میں پختہ عزم اور منظم طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں، اس وژن کو اور رفتار دینے کے لیے جلد ہی ایک اور ‘مثبت ملکی پیداواری فہرست’ جاری کی جائے گی۔” خود انحصاری کے لیے مسلسل کی جا رہی کوششوں سے ملنے والے اچھے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ سالانہ دفاعی پیداوار، جو 2014 میں تقریباً 40,000 کروڑ روپے تھی، وہ مالی سال 25-2024 میں ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی برآمدات، جو مالی سال 14-2013 میں 686 کروڑ روپے تھیں، اب 38,000 کروڑ روپے کی اب تک کی سب سے اونچی سطح کو پار کر گئی ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہمارا دفاعی پیداوار کا ہدف اس سال 2 لاکھ کروڑ روپے اور 2029 تک 3 لاکھ کروڑ روپے کے ہندسے کو پار کرنا ہے۔ ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ 2029 تک دفاعی برآمدات 50,000 کروڑ روپے تک پہنچ جائیں۔ ترقی کی موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے، مجھے پورا بھروسہ ہے کہ ہم ان ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔”
مسٹر سنگھ نے زور دے کر کہا کہ سرکار نے گزشتہ 12 سال میں ملک کی سکیورٹی ضروریات کے لیے گھریلو مینوفیکچرنگ کے بجائے درآمدات کو ترجیح دینے والی "پرانی سوچ” کو بدل دیا ہے۔ انہوں نے کہا، "2014 سے ہی ہماری کوشش رہی ہے کہ جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کی گھریلو پیداوار کے ذریعے دفاعی تیاریوں کو مضبوط کیا جائے اور درآمدات پر انحصار کم کیا جائے۔ ہم نے گھریلو اور بین الاقوامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ملک کے اندر ہی ایک دفاعی صنعتی ایکو سسٹم تیار کیا ہے۔” وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ دفاعی شعبے میں تبدیلی لانے کا سرکار کا وژن ملک کی صلاحیت اور قابلیت میں پکے بھروسے پر مبنی ہے، جو پچھلی سرکار کے نظریے سے بالکل الگ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اتر پردیش اور تمل ناڈو میں دفاعی صنعتی راہداری بنانا خود انحصاری کا ہدف حاصل کرنے کی سمت میں ایک اور انقلابی اصلاح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان راہداریوں میں جدید دفاعی مینوفیکچرنگ ہو رہی ہے اور کئی کمپنیاں عالمی سپلائی چین کا حصہ بن رہی ہیں۔






