’دور دراز علاقوں تک ٹیلی میڈیسن، مصنوعی ذہانت، ڈرون کے ذریعے طبی سامان کی ترسیل جیسی جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانا ضروری ‘
’ ہماری توجہ بیماری سے بچاؤ، ابتدائی تشخیص، باقاعدہ اسکریننگ اور بنیادی صحت خدمات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہونی چاہیے‘
سرینگر؍۲۹؍اگست
جموں و کشمیر میں صحت کے شعبے کو مزید جدید اور قابلِ رسائی بنانے پر زور دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ ٹیلی میڈیسن، مصنوعی ذہانت، ڈرون کے ذریعے طبی سامان کی ترسیل اور شمسی توانائی سے چلنے والی کولڈ چین جیسی جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاکر دور دراز علاقوں تک معیاری طبی سہولیات پہنچائی جانی چاہئیں۔
تیسرے سی آئی آئی جموں و کشمیر ہیلتھ کانکلیو کا افتتاح کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ مستقبل کی صحت پالیسی کا بنیادی مقصد ’’کسی بھی وقت، کہیں بھی صحت خدمات‘‘ ہونا چاہیے اور سستی، مساوی اور ہر شہری تک قابلِ رسائی طبی سہولیات کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
ایل جی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں دو نئے ایمس،۱۰ میڈیکل کالج، دو ریاستی کینسر انسٹی ٹیوٹس، خصوصی اسپتالوں، نرسنگ، پیرا میڈیکل اور فارمیسی اداروں کی توسیع کے باعث صحت کا بنیادی ڈھانچہ تیزی سے مضبوط ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات سماجی انصاف اور مساوی صحت سہولیات کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔
سنہا نے کہا کہ اب توجہ صرف بیماری کے علاج تک محدود رکھنے کے بجائے بیماری سے بچاؤ، ابتدائی تشخیص، باقاعدہ اسکریننگ اور بنیادی صحت خدمات کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے طبی اخراجات کے پیش نظر احتیاطی صحت نگہداشت پر زیادہ زور دینا ضروری ہے۔
ایل جی نے زور دیا کہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ٹیلی میڈیسن کو مزید وسعت دی جائے۔ انہوں نے آشا ورکرز کے ذریعے دور دراز دیہات کے مریضوں کو ضلع اسپتالوں سے ٹیلی کنسلٹیشن کے ذریعے جوڑنے کو جغرافیائی رکاوٹوں پر قابو پانے کی مؤثر مثال قرار دیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کو کم لاگت اور زیادہ اثر رکھنے والی طبی اختراعات کے لیے ایک تجربہ گاہ بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بالخصوص بلند پہاڑی علاقوں میں طبی سامان کی ڈرون کے ذریعے ترسیل اور شمسی توانائی سے چلنے والی کولڈ چینز جیسے منصوبوں پر زور دیا۔
سنہا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو بیماریوں کی ابتدائی تشخیص میں استعمال کیا جانا چاہیے، تاہم یہ ڈاکٹر کے فیصلے کی معاون ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی بیماریوں کی نگرانی، جینومک صلاحیت اور تشخیصی کٹس کی مقامی تیاری کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
ایل جی نے صحت کے شعبے میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی کو دور کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ طبی و نرسنگ تعلیم کی تربیتی گنجائش بڑھانے کے ساتھ نرسنگ اور پیرا میڈیکل اداروں کے ذریعے مسلسل ہنر مندی کا فروغ ضروری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے طبی عملے کی فلاح و بہبود کو بھی مضبوط صحت نظام کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے بہتر اسٹافنگ، انتظامی بوجھ میں کمی اور ذہنی صحت کے لیے معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔
ایل جی نے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو بھی ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نجی اسپتالوں اور صحت سے متعلق صنعتوں کو قومی تعمیر کے اس عمل میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق مضبوط صحت کا نظام وہی ہے جس میں حکومت اور نجی شعبہ اپنی صلاحیت، رفتار اور جدت کو عوامی مفاد کے لیے یکجا کریں۔
سنہا نے ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈز کے ذریعے پورے ملک میں مریضوں کی طبی تاریخ تک مجاز ڈاکٹروں کی فوری رسائی کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام میں مریضوں کو اپنی طبی معلومات تک رسائی اور اس کے استعمال پر کنٹرول حاصل رہے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حقیقی کامیابی کا پیمانہ صرف ہسپتالوں یا طبی اداروں کی تعداد نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں بہتری ہے۔ انہوں نے ایسے نظام کی ضرورت پر زور دیا جس میں کپواڑہ کے کسی خاندان کو معمول کے علاج کے لیے گھنٹوں سفر نہ کرنا پڑے، راجوری کے محنت کش کو علاج کے اخراجات کا خوف نہ ہو اور جموں و کشمیر کے طبی گریجویٹس کو روزگار اور کیریئر کے مواقع اپنے ہی خطے میں میسر ہوں۔
تقریب میں سی آئی آئی جموں و کشمیر کے عہدیداران، صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









