سرینگر؍۲۹؍اگست
سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے نے ہفتے کے روز کہا کہ آپریشن سندور نے پاکستان کے حوالے سے بھارت کے طرزِ عمل میں ’’بہت بڑی تبدیلی‘‘ کا اظہار کیا، کیونکہ اس کارروائی میں نہ صرف سرحد کے قریب موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں بلکہ پڑوسی ملک کے اندر گہرائی میں موجود ان کے حامیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
وڈودرا میں اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کے فروغ کے لیے منعقدہ ایک نجی تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک سال قبل پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد کی جانے والی اس کارروائی نے واضح کردیا کہ دہشت گردوں کو مدد اور پشت پناہی فراہم کرنے والے افراد، خواہ وہ کہیں بھی موجود ہوں، بھارتی کارروائی سے بچ نہیں سکتے۔
جنرل نروانے، جو بھارتی بری فوج کے۲۸ یں سربراہ رہ چکے ہیں، نے کہا، ’’پہلگام حملے کے بعد کیا جانے والا آپریشن سندور ایک انتہائی ضروری کارروائی تھی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھارت کی فوجی کارروائی زیادہ تر سرحد کے قریب واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رہی تھی۔ انہوں نے اڑی اور پلوامہ سمیت ماضی کے دہشت گرد حملوں کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا، ’’اس سے پہلے جب بھی ایسے حملے ہوئے، جیسے اڑی کے بعد اور پلوامہ کے بعد بالاکوٹ میں کی جانے والی کارروائی، ہم زیادہ تر سرحد کے قریب واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔‘‘
جنرل نروانے (ریٹائرڈ) نے کہا، ’’لیکن اس بار کی جانے والی کارروائی میں ان کے حامیوں اور انہیں پشت پناہی فراہم کرنے والوں کو نشانہ بنایا گیا، خواہ وہ کہیں بھی موجود ہوں۔ صرف لائن آف کنٹرول کے قریب نہیں بلکہ پاکستان کے اندر گہرائی میں واقع مریدکے اور بہاولپور میں بھی، جہاں سے انہیں یہ مدد حاصل ہوتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بھارت نے یہ واضح کردیا کہ کہیں بھی دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے افراد ’’بچ نہیں سکتے‘‘۔
سابق آرمی چیف نے کہا، ’’جیسا کہ ہمارے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ’ہم ان کی سرزمین میں داخل ہوکر انہیں ختم کریں گے‘ اور انہیں کوئی تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔ لہٰذا ہمارے طریقۂ کار میں یہ ایک بہت بڑی تبدیلی تھی۔‘‘
پاکستان کے سر کریک کے شعبے میں زیادہ سرگرم ہونے اور ’’آپریشن ابابیل‘‘ کرنے سے متعلق اطلاعات کے بارے میں سوال پر جنرل نروانے نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں، تاہم انہیں اس مبینہ آپریشن کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اس قسم کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ چونکہ میں ریٹائر ہوچکا ہوں، اس لیے اس وقت میرے پاس اس بارے میں مکمل معلومات نہیں ہیں۔‘‘تاہم انہوں نے کہا کہ بھارتی مسلح افواج پوری طرح چوکس ہیں اور ضرورت پڑنے پر مناسب کارروائی کریں گی۔
سابق آرمی چیف نے کہا، ’’میں یہ کہنا چاہوں گا کہ جو بھی سرگرمی ہوتی ہے، ہماری افواج اس پر ہمیشہ کڑی نظر رکھتی ہیں۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور جو بھی کارروائی ضروری ہوگی، مناسب وقت پر کی جائے گی۔‘‘
اس سوال پر کہ آیا پاکستان بھارت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، سابق جنرل نے جواب دیا، ’’میری رائے میں نہیں۔‘‘
بھارت اور چین کے تعلقات کے بارے میں جنرل نروانے نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان حالیہ مذاکرات کو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ خصوصی نمائندوں کی سطح پر مذاکرات کا۲۵ واں دور تھا اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا، ’’اجیت ڈووال کی جانب سے ہماری طرف سے اور چین کی جانب سے وزیر خارجہ وانگ یی کے درمیان ہونے والی یہ۲۵ ویں دور کی خصوصی نمائندہ سطح کی بات چیت پہلی بار نہیں ہوئی۔‘‘انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع موجود ہے۔
سابق آرمی چیف نے مزید کہا، ’’بالکل سرحد کہاں واقع ہے، اسے نہ تو نقشوں پر اور نہ ہی زمینی سطح پر واضح طور پر حدبندی کی گئی ہے۔ اسی حدبندی کے فقدان کی وجہ سے بھارت اور چین کے درمیان وقتاً فوقتاً تنازعات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔‘‘
مجوزہ تھیٹر کمانڈز کے بارے میں جنرل نروانے (ریٹائرڈ) نے کہا کہ مسلح افواج میں تھیٹرائزیشن پر بحث کارگل جنگ کے بعد شروع ہوئی تھی اور یہ کوئی نیا تصور نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’تھیٹرائزیشن پر بحث پہلی مرتبہ کارگل جنگ کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس وقت سے۲۵ سے۲۶ برس گزرچکے ہیں۔ تھیٹرائزیشن کوئی نیا تصور نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل اور ارتقائی مرحلہ ہے۔‘‘
سابق آرمی چیف نے مزید کہا کہ جدید جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت اور فیصلہ سازی کے مختصر ہوتے ہوئے دورانیے کے پیش نظر بھارت میں تھیٹر کمانڈز قائم کرنے پر وسیع اتفاقِ رائے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ سب اس بات سے متفق ہیں کہ بھارت میں بھی ایسی تھیٹر کمانڈز قائم ہونی چاہئیں۔
جنرل نروانے نے کہا، ’’جس طرح جدید جنگ کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور فیصلہ سازی کے ادوار بتدریج مختصر ہوتے جارہے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ ہم جتنی جلد ممکن ہو تھیٹرائزیشن کی جانب پیش رفت کریں۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک )










