سرینگر/۲۹؍اگست
جلد ہی چپس، پیک شدہ اسنیکس اور دیگر غذائی مصنوعات کے پیکٹ کے سامنے سرخ مسدس شکل کا انتباہی نشان نظر آسکتا ہے، جو صارفین کو زیادہ چکنائی، شکر یا نمک سے خبردار کرے گا۔ تاہم اس نظام کے نفاذ کی ابھی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی اور باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں ہوا۔
فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے سپریم کورٹ میں اپنے حلف نامے کے ذریعے پیکٹ کے سامنے غذائی انتباہی لیبل نافذ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ تجویز کے مطابق اس پر مرحلہ وار عمل ہوگا اور صنعت کو مصنوعات میں تبدیلی کے لیے وقت دیا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں ان پیک شدہ غذائی مصنوعات پر انتباہی لیبل لگے گا جن میں چکنائی، شکر اور نمک میں سے کم از کم دو اجزا کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ ہو۔ میٹھے مشروبات، جن میں عموماً شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، کے لیے الگ انتباہ تجویز کیا گیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں ایک ہی جزو کی مقدار زیادہ ہونے والی مصنوعات کو بھی اس دائرے میں لانے کی تجویز ہے۔
لیبل پیکٹ کے سامنے نمایاں جگہ پر انگریزی میں درج ہوگا اور اس کا فونٹ غذائی جدول کے مقابلے میں ایک پوائنٹ بڑا ہوگا۔ دودھ جیسی ایک جزوی غذائیں اور قدرتی طور پر زیادہ چکنائی، شکر یا نمک رکھنے والی اشیا، مثلاً گھی، تیل، نمک، چینی، گڑ اور شہد، کو مجوزہ ضابطے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس طویل بحث کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ماہرین اور کارکنان نے صارفین کو فوری اور آسانی سے سمجھ آنے والی معلومات فراہم کرنے پر زور دیا۔ ایف ایس ایس اے آئی نے۲۰۲۲ میں اسٹار ریٹنگ کا نظام تجویز کیا تھا، تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ انتہائی غیر صحت بخش مصنوعات کو بھی اسٹار ملنے سے صارف اسے مثبت علامت سمجھ سکتے ہیں۔
ماہرین نے موجودہ پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن بعض شرائط پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ نیوٹریشن ایڈووکیسی اِن پبلک انٹرسٹ کے کنوینر ڈاکٹر ارون گپتا کے مطابق پہلے مرحلے میں دو غذائی اجزا کی زیادہ مقدار کی شرط کے باعث بہت سی غیر صحت بخش مصنوعات انتباہی لیبل سے بچ سکتی ہیں۔ انہوں نے دوسرے مرحلے کے نفاذ کی تاریخ واضح نہ ہونے، ’’شامل کردہ‘‘ شکر یا چکنائی پر زور دینے اور چھوٹے فونٹ پر بھی اعتراض کیا ہے۔
دنیا کے متعدد ممالک پہلے ہی فرنٹ آف پیک وارننگز استعمال کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں ٹریفک لائٹ نظام، جبکہ چلی سمیت کئی لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں انتباہی علامتیں استعمال ہوتی ہیں۔ بھارت میں بھی صحت کے شعبے سے وابستہ ادارے طویل عرصے سے اسی نوعیت کے واضح انتباہی لیبل کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
متعدد بھارتی اداروں کے مشترکہ مؤقف کے مطابق لاطینی امریکا کے بعض ممالک میں ایسے لیبل متعارف ہونے کے بعد لوگوں کے کھانے پینے کے رجحانات میں تبدیلی دیکھی گئی، جبکہ چلی میں میٹھے مشروبات کے استعمال میں 24 فیصد کمی رپورٹ کی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










