جموں؍۲۹؍اگست
کشتواڑ ضلع میں۱۵ سالہ لڑکی کی مبینہ عصمت دری اور اس کے بعد موت کے معاملے کی تحقیقات ہفتے کے روز کرائم برانچ کے حوالے کردی گئی ہے۔ حکام نے یہ اطلاع دی۔
نوعمر لڑکی کو مبینہ طور پر اس کے اسکول کے استاد نے کئی ماہ تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کا۲۰؍ اگست کو حمل ختم کرنے کے طریقۂ کار کے دوران انتقال ہوگیا تھا۔
پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اب تک اس معاملے میں چھ افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں مبینہ طور پر عصمت دری کرنے والا استاد اور ایک نرس بھی شامل ہیں۔
کیس کو کرائم برانچ کے حوالے کرنے کا فیصلہ فوری اور جامع تحقیقات اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
کرائم برانچ کی انسپکٹر جنرل آف پولیس سارہ رضوی نے تصدیق کی کہ ایجنسی کو پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب سے کیس منتقل کیے جانے کے حوالے سے اطلاع موصول ہوئی ہے۔
رضوی نے کہا، ’’ہم کیس اپنے قبضے میں لینے کے عمل میں ہیں۔‘‘
اس سے قبل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتے کے روز جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پر زور دیا تھا کہ وہ کشتواڑ عصمت دری اور موت کے کیس کو شفاف اور مقررہ مدت کے اندر مکمل ہونے والی تحقیقات کے لیے کرائم برانچ کے حوالے کریں۔
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ واقعہ خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کا محض ایک اور واقعہ نہیں بلکہ ’’ہمارے معاشرے کے ضمیر پر ایک گہرا اور ناسور بنتا ہوا زخم ہے۔‘‘
محبوبہ نے کہا، ’’دس دن گزرنے کے باوجود اس بہیمانہ جرم کے گرد پھیلی خاموشی غم زدہ خاندان کی اذیت کو مزید گہرا کررہی ہے اور نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو مجروح کررہی ہے۔ اگر اب فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی اور مجرموں کو مثالی سزا کے ساتھ انصاف کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو ایسے بھیانک جرائم بے خوفی سے جاری رہیں گے۔‘‘
پی ڈی پی سربراہ نے سنہا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر کیس کرائم برانچ کے حوالے کریں تاکہ منصفانہ، شفاف اور مقررہ مدت میں مکمل ہونے والی تحقیقات یقینی
(ندائے مشرق ڈیسک )










