ایجنسیاں
سرینگر؍۳۰ جولائی
جموں و کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نلین پربھات نے جمعرات کو ضلع ریاسی سے تعلق رکھنے والے پانچ ایسے دہشت گردوں کی۱ء۷ ہیکٹر اراضی ضبط کرنے کا حکم دیا ہے جو اس وقت پاکستان میں مقیم ہو کر کالعدم لشکرِ طیبہ کے لیے سرگرم ہیں۔
پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا’’ڈی جی پی نلین پربھات نے پاکستان میں سرگرم پانچ بدنام دہشت گردوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں‘‘۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پولیس نے لشکرِ طیبہ کے ایک سرکردہ جنگجو محمد قاسم کے خلاف بھی، جو اس وقت پاکستان میں سرگرم ہے، اشتہاری کارروائی حاصل کی ہے۔ترجمان کے مطابق محمد قاسم کی جائیداد رواں سال مارچ میں ہی ضبط کی جا چکی ہے۔
ضبطی کے حکم نامے کے مطابق جن دہشت گردوں کی اراضی ضبط کی گئی ہے، ان کی شناخت الطاف دین، غلام محمد، محمد اشرف، شبیر احمد اور بہار دین کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ تمام افراد کئی برس قبل اسلحہ اور گولہ بارود کی تربیت حاصل کرنے کے لیے پاکستان فرار ہو گئے تھے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا’’یہ تمام دہشت گرد اس وقت پاکستان میں رہتے ہوئے لشکرِ طیبہ کے لیے کام کر رہے ہیں اور جموں و کشمیر میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے اسلحہ، گولہ بارود اور مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پانچوں دہشت گرد ضلع ریاسی میں مقامی نوجوانوں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے کے لیے اکسانے اور انتہا پسندانہ نظریات کی طرف مائل کرنے کی کوششوں میں بھی ملوث ہیں۔










