ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۳ جولائی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ بی جے پی کی جانب سے انہیں بھیجا گیا قانونی نوٹس دراصل ایک ’محبت نامہ‘ ہے اور وہ اسے اپنے لیے اعزاز تصور کرتے ہیں، کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں ایک ایسی سیاسی قوت ہیں جسے بی جے پی نظر انداز نہیں کر سکتی۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر بی جے پی نے پیر کے روز عمر عبداللہ کو اس بیان پر قانونی نوٹس جاری کیا تھا، جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی نے ان کی حکومت گرانے کی غرض سے نیشنل کانفرنس کے ارکانِ اسمبلی کو نقد رقم اور وزارتوں کی پیشکش کی تھی۔
سری نگر میں نیشنل کانفرنس کے صدر دفتر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’مجھے ایک وکیل کی جانب سے اس خط کی الیکٹرانک نقل موصول ہوئی ہے۔ میں اسے اپنے لیے ایک بڑا اعزاز سمجھتا ہوں، کیونکہ جموں و کشمیر میں میں شاید واحد سیاست دان ہوں جسے بی جے پی نے اس طرح کا محبت نامہ بھیجا ہے۔ میں اسے اس بات کا اعتراف سمجھتا ہوں کہ میں یہاں ایک ایسی سیاسی قوت ہوں جسے وہ نظر انداز نہیں کر سکتے‘‘۔
وزیر اعلیٰ بی جے پی کی جانب سے بھیجے گئے اس قانونی نوٹس کے بارے میں ایک سوال کا جواب دے رہے تھے، جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے الزامات ثابت کریں یا عوامی معافی مانگیں، بصورت دیگر ان کے خلاف۱۰۰کروڑ روپے ہرجانے کا ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ چونکہ انہوں نے ایک سیاسی بیان دیا تھا، اس لیے انہیں بی جے پی سے سیاسی جواب کی توقع تھی، لیکن اس کے بجائے پارٹی نے قانونی راستہ اختیار کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ بی جے پی کے اندازِ سیاست کی علامت ہے۔ وہ سیاسی لڑائیاں لڑتے ہوئے عدالتوں کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ میں بھی یہی بات اسمبلی کے اندر کہہ سکتا تھا اور اسمبلی کے استحقاق کی آڑ لے سکتا تھا، کیونکہ اسمبلی میں دیے گئے بیانات کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران جموں و کشمیر میں بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت کے خلاف بارہا بے بنیاد اور ہتک آمیز الزامات عائد کیے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’خاص طور پر ایک بی جے پی رہنما نے بار بار ہمارے خلاف بے بنیاد اور ہتک آمیز الزامات لگائے ہیں، لیکن ہم نے ہمیشہ سیاسی انداز میں ان کا جواب دیا۔ اب ہم اس مخصوص رہنما اور چند دیگر بی جے پی رہنماؤں کو قانونی نوٹس بھیجنے کا عمل شروع کریں گے، پھر دیکھتے ہیں یہ سلسلہ کہاں تک جاتا ہے‘‘۔
ادھر بی جے پی کے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے الزامات دیوانی اور فوجداری دونوں قوانین کے تحت ہتکِ عزت کے زمرے میں آتے ہیں، اس لیے وہ تحریری طور پر اپنے الزامات واپس لیں۔
نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نوٹس موصول ہونے کے سات دن کے اندر غیر مشروط عوامی معافی مانگیں، بی جے پی کے خلاف مزید کوئی ہتک آمیز مواد شائع یا نشر نہ کریں اور آئندہ اس نوعیت کے بیانات دینے یا دہرانے سے گریز کریں۔










