ایجنسیاں
سری نگر؍۱۳ جولائی
جموں و کشمیر کے سوپور علاقے میں مبینہ منشیات فروش کی ایک کروڑ۲۳ لاکھ روپے سے زائد مالیت کی غیر منقولہ جائیداد پیر کے روز متعلقہ حکام نے ضبط کر لی۔ پولیس نے یہ جانکاری دی۔
پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ این ڈی پی ایس ایکٹ‘۱۹۸۵ کی دفعہ۶۸؍ایف کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ایک مفرور اور بدنام زمانہ منشیات فروش کی دو غیر منقولہ جائیدادیں، جن کی مجموعی مالیت ایک کروڑ۲۳ لاکھ روپے سے زائد ہے، ضبط کر لی گئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق ضبط شدہ جائیداد میں ایک دو منزلہ رہائشی مکان اور ایک کنال دس مرلہ(۸۱۵۰ مربع فٹ) اراضی شامل ہے، جن کی مجموعی مالیت ایک کروڑ۲۳ لاکھ روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
یہ جائیداد محمد اشرف میر عرف آشو ساکنہ جامعہ قدیم، سوپور کے نام پر ہے، جو اس وقت کرانکشیون کالونی، سوپور میں مقیم ہے۔پولیس نے بتایا کہ ملزم روپوش ہے، جس کے پیش نظر اس کے خلاف ہُو اینڈ کرائی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
ادھرجموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں پولیس نے ایک عادی منشیات فروش کو غیر قانونی منشیات اور نفسیاتی ادویات کی اسمگلنگ کی روک تھام ایکٹ کے تحت حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، ضلع کے تحصیل ہیرانگر کے گڑھا کامد علاقے کے رہائشی ساجد حسین کو جموں ڈویژنل کمشنر کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ پر عمل درآمد کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق، ساجد حسین ایک عادی منشیات فروش ہے اور اس کے خلاف منشیات اور نفسیاتی اثر رکھنے والی ممنوعہ اشیا رکھنے اور ان کی نقل و حمل میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملزم کے خلاف راج باغ اور ہیرانگر پولیس تھانوں میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت دو مقدمات درج ہیں۔
ملزم کے مجرمانہ ریکارڈ کی بنیاد پر پولیس نے اسے پی آئی ٹی،این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت نظر بند کرنے کی سفارش کرتے ہوئے ایک ڈوزیئر تیار کیا، جسے منظوری کے لیے جموں ڈویژنل کمشنر کو بھیجا گیا۔
یہ قانون عادی یا منظم منشیات فروشوں کو مستقبل میں جرائم سے باز رکھنے کے لیے احتیاطی حراست کی اجازت دیتا ہے۔
ڈویژنل کمشنر کی منظوری کے بعد ہیرانگر پولیس تھانے کی ایک ٹیم نے ساجد حسین کو حراست میں لے کر بھدرواہ ضلع جیل منتقل کر دیا۔










