پیر, اکتوبر 19, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

مانسون اجلاس میں آئینی بلوں، نیٹ تنازع اور معاشی مسائل پرگرماگرم بحث کا امکان

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-14
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
مانسون اجلاس میں آئینی بلوں، نیٹ تنازع اور معاشی مسائل پرگرماگرم بحث کا امکان
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘

بچوں کیلئے انٹرنیٹ پر عمر کی بنیاد پر پابندی مسترد ‘ رسائی بنیادی حق قرار

نئی دہلی؍۱۳ جولائی
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس‘ جو۲۰ جولائی سے شروع ہو رہا ہے، گرماگرم سیاسی بحث کا گواہ بننے کے لیے تیار ہے کیونکہ نریندر مودی حکومت متعدد اہم آئینی اور انتخابی اصلاحاتی اقدامات کو پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن کا انڈیا بلاک نیٹ یو جی پیپر لیک ہونے، مہنگائی، بے روزگاری اور کئی دیگر متنازع مسائل پر مرکز کو گھیرنے کے لیے تیار ہے انیس نشستوں پر مشتمل یہ اجلاس ، جو۱۳؍ اگست کو ختم ہونا ہے، اس میں سخت بحث ومباحثہ ، قانون سازی کی جنگ اور ضابطے کے حوالے سے ٹکراؤ کی توقع ہے۔
پارلیمنٹ کے کام کاج کو خوش اسلوبی سے چلانے کو یقینی بنانے کی کوشش میں، مرکز نے اجلاس سے قبل سیاسی جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے کے لیے۱۹ جولائی کو ایک کل جماعتی میٹنگ طلب کی ہے۔
اس سے قبل شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن ریجیجو نے کہا تھا،’’قومی اہمیت کے حامل موضوعات پر با معنی بحث، تبادلۂ خیال اور فیصلوں کے لیے اجلاس۲۰جولائی۲۰۲۶ سے شروع ہوگا اور۱۳؍اگست۲۰۲۶ تک جاری رہے گا‘‘۔حکومت کا قانون سازی کا ایجنڈا کئی سیاسی طور پر اہم آئینی تجاویز پر مبنی ہونے کی امید ہے۔ ان میں سب سے زیادہ باریکی سے دیکھا جانے والا مجوزہ آئین(۱۳۰ویں ترمیم) بل ہے، جس میں یہ لازمی قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر وزیر اعظم، کوئی وزیر اعلیٰ یا کوئی کابینی وزیر مسلسل۳۰ دنوں تک عدالتی حراست میں رہتا ہے تو وہ خود بخود اپنا عہدہ چھوڑ دے گا۔ اس تجویز سے آئینی جواب دہی، مناسب قانونی عمل اور اختیارات کی تقسیم پر سخت بحث چھڑنے کا امکان ہے۔
حکومت کے ایجنڈے میں ایک اور بڑا موضوع حلقہ بندیوں سے منسلک خواتین کے ریزرویشن بل کے لیے نئے سرے سے کی جانے والی کوشش ہے۔ اپنی سابقہ کوشش کے ناکام ہونے کے بعد، این ڈی اے سے لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے لیے۳۳ فیصد ریزرویشن کو ایک نئی حلقہ بندی کے عمل کے ذریعے نافذ کرنے کے لیے آئین(۱۳۱ویں ترمیم) بل کو دوبارہ متعارف کرانے کی توقع ہے، جس میں ایوانِ زیریں (لوک سبھا) کی نشستوں کی تعداد میں مجوزہ اضافہ بھی شامل ہے۔
اس قانون سازی سے سیاسی نمائندگی، وفاقی توازن اور حلقہ بندی پر بحث دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔ مرکز کی جانب سے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ (ایک ملک، ایک انتخاب) پر قانون سازی کو آگے بڑھانے اور فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (ایف سی آر اے) میں ترامیم تجویز کرنے کا بھی امکان ہے، جس سے یہ سیشن حکومت کے وسیع تر حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے کا ایک اہم امتحان بن جائے گا۔
علاقائی جماعتوں، بالخصوص ترنمول کانگریس اور شیو سینا (یو بی ٹی) سے انحراف کے بعد پچھلے اجلاس کے مقابلے پارلیمانی اعداد و شمار میں بھی تبدیلی آئی ہے، جس نے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی تعداد کو مضبوط کیا ہے اور اسے آئینی ترمیم کے لیے ضروری دو تہائی اکثریت کے قریب پہنچا دیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ بدلا ہوا سیاسی منظر نامہ حکومت کی قانون سازی کی حکمتِ عملی پر اثر انداز ہوگا، جبکہ لوک سبھا میں منحرف ارکان کو تسلیم کرنے اور بیٹھنے کے نئے انتظامات کے حوالے سے اسپیکر اوم برلا کے فیصلے بھی توجہ کا مرکز بننے کا امکان ہے۔
دوسری طرف، اپوزیشن ان مسائل پر ایک مربوط جارحانہ حکمتِ عملی تیار کر رہی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان سے عوام میں بڑے پیمانے پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔ نیٹ یو جی پیپر لیک ہونے اور مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر اس کی مہم کے چھائے رہنے کی امید ہے، جس میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کرنے، امتحانی اصلاحات کے لیے دباؤ ڈالنے اور قومی داخلہ امتحانات منعقد کرنے والی ایجنسیوں کے طریقۂ کار پر سوال اٹھانے کا امکان ہے۔
معاشی مسائل کے بھی نمایاں طور پر اٹھنے کی امید ہے، جس میں اپوزیشن جماعتیں مہنگائی، بے روزگاری، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور رہن سہن کی لاگت پر تشویش کواٹھانے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ ان کی جانب سے مالیاتی بے ضابطگیوں کے الزامات پر بھی حکومت سے سوال کرنے کی توقع ہے، جس میں ایودھیا رام مندر میں چڑھاوا چوری کا مبینہ معاملہ بھی شامل ہے، اور وہ مزید شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کریں گے۔ ایک اور ممکنہ ٹکراؤ آپریشن سندور سے متعلق ریمارکس پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے خلاف کانگریس کی مجوزہ تحریکِ استحقاق سے پیدا ہو سکتا ہے، جس سے لوک سبھا میں ضابطے کے محاذ پرٹکراؤکی صورت پیداہوسکتی ہے ۔
آئینی ترامیم، انتخابی اصلاحات، بدلتے پارلیمانی اعداد و شمار اور سیاسی طور پر حساس عوامی مسائل کے ایک ہی سیشن میں جمع ہونے کے ساتھ، مانسون سیشن کے حالیہ برسوں کے سب سے اہم پارلیمانی اجلاس میں سے ایک ہونے کی وسیع پیمانے پر توقع کی جا رہی ہے۔ جیسے ہی پارلیمنٹ دوبارہ شروع ہونے کی تیاری کر رہی ہے، اہم قانون سازی کی اصلاحات کو آگے بڑھانے پر حکومت کی توجہ اور مرکز کو جواب دہ بنانے کا اپوزیشن کا عزم یہ ظاہر کرتا ہے کہ کل جماعتی اجلاس کے ذریعے ہم آہنگی کی کوششوں کے باوجود سیشن میں شدید سیاسی مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
اب یہ تاریخی قانون سازی کا سبب بنتا ہے یا طویل ہنگامہ آرائی کا، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق۱۹طے شدہ نشستوں کے دوران سیاسی حکمتِ عملی کو پارلیمانی کام کاج کے ساتھ کس طرح متوازن رکھتے ہیں۔
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

چندرکوٹ میں متعدد گاڑیوں کے  تصادم میں۱۸ امرناتھ یاتری زخمی

Next Post

ایل جی سنہا سے سابق وزیر اعلیٰ  اتراکھنڈ، عوامی وفد اور پہاڑی  قبائلی ملازمین کے وفد کی ملاقات

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘
اہم ترین

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘

2026-10-18
اگر والدین آئی اے ایس افسر ہیں تو بچوں کو ریزرویشن کیوں؟ سپریم کورٹ کا سوال
اہم ترین

بچوں کیلئے انٹرنیٹ پر عمر کی بنیاد پر پابندی مسترد ‘ رسائی بنیادی حق قرار

2026-10-18
 لداخ میں تعطل برقرار، مرکز سیاسی حل کے لیے پُرعزم، بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
اہم ترین

 لداخ میں تعطل برقرار، مرکز سیاسی حل کے لیے پُرعزم، بات چیت جاری رکھنے کی اپیل

2026-10-18
’کشمیر میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اولین ترجیح برقرار رہیں گی‘
اہم ترین

عوام کو تیز رفتار خدمات کی فراہمی ‘ جواب دہی یقینی بنانے پر زور

2026-10-18
نوجوان کی پولیس تھانے میں موت‘عدالت کی پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت
اہم ترین

 کشتواڑ میں نابالغ لڑکی کی موت کیس میں فرد جرم داخل

2026-10-18
’ منشیات کے مسئلہ براہِ راست تعلق دہشت گردی سے ہے‘
اہم ترین

جموں میں مبینہ منشیات فروش  گرفتار‘۳۸۵گرام ہیروئن برآمد

2026-10-18
لہیہ میںفوجی ٹینک دریا کے بہاؤ میں بہہ گئی ‘۵ فوجی اہلکار ہلاک
اہم ترین

مرکز نے لداخ کی پہاڑی  ترقیاتی کونسلوں کے ڈھانچے  اور انتخابی قواعد میں ترمیم کر دی

2026-10-18
سری نگر ہوائی اڈے پر پیر اور منگل کی رن وے بندش کا فیصلہ واپس
اہم ترین

آئی ٹی آئی اداروں کی جدید  کاری کیلئے۴۷۵ کروڑ روپے  منظوری پر عمر کا مرکزکا شکریہ

2026-10-18
Next Post
ایل جی سنہا سے سابق وزیر اعلیٰ  اتراکھنڈ، عوامی وفد اور پہاڑی  قبائلی ملازمین کے وفد کی ملاقات

ایل جی سنہا سے سابق وزیر اعلیٰ  اتراکھنڈ، عوامی وفد اور پہاڑی  قبائلی ملازمین کے وفد کی ملاقات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.