نئی دہلی؍۱۳ جولائی
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس‘ جو۲۰ جولائی سے شروع ہو رہا ہے، گرماگرم سیاسی بحث کا گواہ بننے کے لیے تیار ہے کیونکہ نریندر مودی حکومت متعدد اہم آئینی اور انتخابی اصلاحاتی اقدامات کو پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ اپوزیشن کا انڈیا بلاک نیٹ یو جی پیپر لیک ہونے، مہنگائی، بے روزگاری اور کئی دیگر متنازع مسائل پر مرکز کو گھیرنے کے لیے تیار ہے انیس نشستوں پر مشتمل یہ اجلاس ، جو۱۳؍ اگست کو ختم ہونا ہے، اس میں سخت بحث ومباحثہ ، قانون سازی کی جنگ اور ضابطے کے حوالے سے ٹکراؤ کی توقع ہے۔
پارلیمنٹ کے کام کاج کو خوش اسلوبی سے چلانے کو یقینی بنانے کی کوشش میں، مرکز نے اجلاس سے قبل سیاسی جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے کے لیے۱۹ جولائی کو ایک کل جماعتی میٹنگ طلب کی ہے۔
اس سے قبل شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن ریجیجو نے کہا تھا،’’قومی اہمیت کے حامل موضوعات پر با معنی بحث، تبادلۂ خیال اور فیصلوں کے لیے اجلاس۲۰جولائی۲۰۲۶ سے شروع ہوگا اور۱۳؍اگست۲۰۲۶ تک جاری رہے گا‘‘۔حکومت کا قانون سازی کا ایجنڈا کئی سیاسی طور پر اہم آئینی تجاویز پر مبنی ہونے کی امید ہے۔ ان میں سب سے زیادہ باریکی سے دیکھا جانے والا مجوزہ آئین(۱۳۰ویں ترمیم) بل ہے، جس میں یہ لازمی قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر وزیر اعظم، کوئی وزیر اعلیٰ یا کوئی کابینی وزیر مسلسل۳۰ دنوں تک عدالتی حراست میں رہتا ہے تو وہ خود بخود اپنا عہدہ چھوڑ دے گا۔ اس تجویز سے آئینی جواب دہی، مناسب قانونی عمل اور اختیارات کی تقسیم پر سخت بحث چھڑنے کا امکان ہے۔
حکومت کے ایجنڈے میں ایک اور بڑا موضوع حلقہ بندیوں سے منسلک خواتین کے ریزرویشن بل کے لیے نئے سرے سے کی جانے والی کوشش ہے۔ اپنی سابقہ کوشش کے ناکام ہونے کے بعد، این ڈی اے سے لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے لیے۳۳ فیصد ریزرویشن کو ایک نئی حلقہ بندی کے عمل کے ذریعے نافذ کرنے کے لیے آئین(۱۳۱ویں ترمیم) بل کو دوبارہ متعارف کرانے کی توقع ہے، جس میں ایوانِ زیریں (لوک سبھا) کی نشستوں کی تعداد میں مجوزہ اضافہ بھی شامل ہے۔
اس قانون سازی سے سیاسی نمائندگی، وفاقی توازن اور حلقہ بندی پر بحث دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔ مرکز کی جانب سے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ (ایک ملک، ایک انتخاب) پر قانون سازی کو آگے بڑھانے اور فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (ایف سی آر اے) میں ترامیم تجویز کرنے کا بھی امکان ہے، جس سے یہ سیشن حکومت کے وسیع تر حکمرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے کا ایک اہم امتحان بن جائے گا۔
علاقائی جماعتوں، بالخصوص ترنمول کانگریس اور شیو سینا (یو بی ٹی) سے انحراف کے بعد پچھلے اجلاس کے مقابلے پارلیمانی اعداد و شمار میں بھی تبدیلی آئی ہے، جس نے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی تعداد کو مضبوط کیا ہے اور اسے آئینی ترمیم کے لیے ضروری دو تہائی اکثریت کے قریب پہنچا دیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ بدلا ہوا سیاسی منظر نامہ حکومت کی قانون سازی کی حکمتِ عملی پر اثر انداز ہوگا، جبکہ لوک سبھا میں منحرف ارکان کو تسلیم کرنے اور بیٹھنے کے نئے انتظامات کے حوالے سے اسپیکر اوم برلا کے فیصلے بھی توجہ کا مرکز بننے کا امکان ہے۔
دوسری طرف، اپوزیشن ان مسائل پر ایک مربوط جارحانہ حکمتِ عملی تیار کر رہی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان سے عوام میں بڑے پیمانے پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔ نیٹ یو جی پیپر لیک ہونے اور مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر اس کی مہم کے چھائے رہنے کی امید ہے، جس میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کرنے، امتحانی اصلاحات کے لیے دباؤ ڈالنے اور قومی داخلہ امتحانات منعقد کرنے والی ایجنسیوں کے طریقۂ کار پر سوال اٹھانے کا امکان ہے۔
معاشی مسائل کے بھی نمایاں طور پر اٹھنے کی امید ہے، جس میں اپوزیشن جماعتیں مہنگائی، بے روزگاری، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور رہن سہن کی لاگت پر تشویش کواٹھانے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ ان کی جانب سے مالیاتی بے ضابطگیوں کے الزامات پر بھی حکومت سے سوال کرنے کی توقع ہے، جس میں ایودھیا رام مندر میں چڑھاوا چوری کا مبینہ معاملہ بھی شامل ہے، اور وہ مزید شفافیت اور جواب دہی کا مطالبہ کریں گے۔ ایک اور ممکنہ ٹکراؤ آپریشن سندور سے متعلق ریمارکس پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے خلاف کانگریس کی مجوزہ تحریکِ استحقاق سے پیدا ہو سکتا ہے، جس سے لوک سبھا میں ضابطے کے محاذ پرٹکراؤکی صورت پیداہوسکتی ہے ۔
آئینی ترامیم، انتخابی اصلاحات، بدلتے پارلیمانی اعداد و شمار اور سیاسی طور پر حساس عوامی مسائل کے ایک ہی سیشن میں جمع ہونے کے ساتھ، مانسون سیشن کے حالیہ برسوں کے سب سے اہم پارلیمانی اجلاس میں سے ایک ہونے کی وسیع پیمانے پر توقع کی جا رہی ہے۔ جیسے ہی پارلیمنٹ دوبارہ شروع ہونے کی تیاری کر رہی ہے، اہم قانون سازی کی اصلاحات کو آگے بڑھانے پر حکومت کی توجہ اور مرکز کو جواب دہ بنانے کا اپوزیشن کا عزم یہ ظاہر کرتا ہے کہ کل جماعتی اجلاس کے ذریعے ہم آہنگی کی کوششوں کے باوجود سیشن میں شدید سیاسی مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
اب یہ تاریخی قانون سازی کا سبب بنتا ہے یا طویل ہنگامہ آرائی کا، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق۱۹طے شدہ نشستوں کے دوران سیاسی حکمتِ عملی کو پارلیمانی کام کاج کے ساتھ کس طرح متوازن رکھتے ہیں۔










