سری نگر؍۱۳ جولائی
جموں کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نلین پربھات نے پیر کے روز ڈاؤن ٹاؤن سری نگر میں سکیورٹی صورتحال کا جامع جائزہ لیتے ہوئے شہر کے قدیم حصے کے اہم مقامات پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اور آپریشنل تیاریوں کا زمینی معائنہ کیا۔
اس موقع پر ان کے ہمراہ انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر وی کے بردی، ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) وسطی کشمیر اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سری نگر بھی موجود تھے۔ سینئر پولیس افسران نے مشترکہ طور پر موجودہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور امن و قانون کی برقراری کے لیے کیے گئے انتظامات کا معائنہ کیا۔
دورے کے دوران ڈی جی پی نلین پربھات نے ڈاؤن ٹاؤن سری نگر میں واقع حضرت نقشبند صاحبؒ کے مزار کے اطراف تعینات سکیورٹی اہلکاروں کا بھی معائنہ کیا اور وہاں ڈیوٹی پر موجود افسران اور اہلکاروں سے بات چیت کی۔
پربھات نے پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ ہر وقت چوکس رہیں اور مؤثر سکیورٹی انتظامات کو یقینی بنائیں۔
ادھرسری نگر انتظامیہ نے پیر کو پرانے شہر کے کئی علاقوں میں سخت پابندیاں نافذ کی ہیں جس کا مقصد۱۳ جولائی،۱۹۳۱کے واقعے میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی برسی پر نقشبند صاحب میں واقع مزار شہیداء میں لوگوں کو جمع ہونے سے روکنا ہے۔
حکام نے بتایا کہ احتیاط کے طور پر اتوار کی دیر رات اس مزار کو سیل کر دیا گیا، جہاں۱۹۳۱کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کو دفن کیا گیا تھا۔
پرانے شہر میں کئی مقامات پر رکاوٹیں کھڑیں کی گئی تھیں اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بھاری تعداد میں پولیس اور مرکزی مسلح پولیس فورس (سی اے پی ایف) کی تعیناتی کی گئی۔ حساس علاقوں میں بکتر بند گاڑیاں بھی تعینات کی گئیں تاکہ سیاسی رہنماؤں اور ان کے حامیوں کو قبرستان تک مارچ کرنے سے روکا جا سکے۔
ڈوگرا حکومت کے خلاف۱۹۳۱ میں مظاہرے کے دوران مارے گئے۲۲ کشمیریوں کی یاد میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کے پرانے شہر میں آج کے دن سرکاری تعطیل ہوتی تھی جسے کچھ برس قبل لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ نے ختم کردیا تھایا۔
حکمران جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنماؤں نے بھی جاں بحق۲۲؍کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے مزار جانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھالیکن پیر کی صبح کئی سیاسی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ انہیں نظر بند کر دیا گیا ہے اور نقش بند صاحب جانے کے لیے انہیں اپنے گھروں سے نکلنے نہیں دیا جا رہا ہے۔










