ہندوستان اور پاکستان میں ایسے رابطوں کی کوئی سرکاری حیثیت یا اہمیت نہیں‘یہ ایک نجی اقدام ہے: خارجہ سکریٹری وکرم مصری
’ان میں سرکار کی کوئی شرکت رہی ہے اور نہ ان کی کوئی سرکاری حمایت ہے‘ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۹ جون
خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے کہا ہے کہ حکومت ہند بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی ٹریک۔ٹو ملاقاتوں کو سرکاری نوعیت کا نہیں سمجھتی اور نہ ہی انہیں کوئی خاص اہمیت دیتی ہے۔
ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان کے سابق فوجی افسران، سابق سفارت کاروں اور سیاسی شخصیات نے اس ہفتے سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ایک غیر رسمی ٹریک۔ٹو مذاکراتی اجلاس میں شرکت کی۔ یہ ملاقات انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز(آئی آئی ایس ایس) کی علاقائی سلامتی کانفرنس کے موقع پر منعقد ہوئی، جس میں بھارت، پاکستان، سری لنکا، مالدیپ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے مندوبین شریک تھے۔
وکرم مصری نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں نے ان ملاقاتوں سے متعلق خبریں دیکھی ہیں اور ان سے واقف ہوں۔ دنیا بھر میں مختلف موضوعات پر اس نوعیت کے درجنوں نجی پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ اس لیے ان میں کوئی نئی یا غیر معمولی بات نہیں ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ یہ ’’نجی اداروں کی جانب سے منعقد کیے گئے نجی پروگرام‘‘ ہیں اور حکومت ہند کے نقطۂ نظر سے ان کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں۔
خارجہ سکریٹری نے واضح کیا، ’’حکومت ہند کی جانب سے ان ملاقاتوں میں نہ کوئی سرکاری شرکت ہے، نہ کوئی سرکاری حمایت اور نہ ہی کسی قسم کی سرکاری شمولیت۔ میں حکومت پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن بھارت کا مؤقف بالکل واضح ہے۔‘‘
مصری نے کہا کہ ان اجلاسوں میں شریک ریٹائرڈ سفارت کار، سابق فوجی افسران اور سول سوسائٹی کے ارکان اپنی اپنی حیثیت میں ممتاز شخصیات ہیں، تاہم وہ صرف اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور کسی بھی صورت میں حکومت ہند کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔
سیکریٹری خارجہ نے حکومت کے نقطۂ نظر کو دہراتے ہوئے کہا، ’’ہم ان سرگرمیوں کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیتے۔ ہمارے نزدیک ان کی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔‘‘
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند ہفتے قبل راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سینئر رہنما دتاتریہ ہوسبالے نے کہا تھا کہ بھارت کو اپنے سلامتی کے مفادات پر سمجھوتہ کیے بغیر مذاکرات کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔
سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے بھی عوامی سطح پر ٹریک۔ٹو سفارت کاری اور عوامی روابط کو دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے مؤثر ذرائع قرار دے چکے ہیں، جبکہ نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان سرکاری تعلقات بدستور منجمد ہیں۔
سرکاری ذرائع نے واضح کیا کہ کولمبو میں ہونے والی یہ ملاقات کسی بھی صورت میں سرکاری مذاکرات نہیں سمجھی جا سکتی۔ انہوں نے ایک بار پھر نئی دہلی کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے ساتھ اس وقت کوئی باضابطہ مذاکراتی عمل جاری نہیں اور ’’دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔‘‘
ذرائع نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ کولمبو میں ہونے والی ملاقات کو ’’ٹریک۱ء۵‘‘ سفارت کاری قرار دیا جائے۔ ان کے مطابق اگرچہ پاکستان کی نمائندگی وزارت خارجہ کے ایک حاضر سروس افسر نے کی، لیکن بھارت کی جانب سے کوئی بھی حاضر سروس سرکاری نمائندہ اجلاس میں شریک نہیں تھا۔
واضح رہے کہ ٹریک۔ٹو مذاکرات سفارت کاری کا ایک غیر رسمی طریقہ ہے، جس میں ماہرین تعلیم، ریٹائرڈ سرکاری افسران، سابق سفارت کار، سابق فوجی حکام اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔ یہ عمل حکومتوں کے درمیان باضابطہ مذاکرات کے متوازی چلتا ہے اور اس کا مقصد سیاسی دباؤ سے ہٹ کر مختلف پالیسی امور پر تبادلہ خیال اور کشیدگی میں کمی کے امکانات تلاش کرنا ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت اور پاکستان کے وفود کے درمیان کولمبو کے ایک ہوٹل میں تقریباً دو روز تک مختلف نشستوں میں تبادلہ خیال ہوا۔
بھارت کی نمائندگی سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے، انڈیا فاؤنڈیشن کے صدر اور بی جے پی کے سابق قومی جنرل سکریٹری رام مادھو، اور سابق سفارت کار روچی گھناشیام نے کی۔
پاکستانی وفد میں وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیا و سارک) سجاد حیدر خان، امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمٰن اور ریٹائرڈ میجر جنرل اسفندیار علی خان پٹودی شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق بات چیت میں سرحد پار دہشت گردی، آبی وسائل کی تقسیم، کشیدگی کے دوران رابطے کے مؤثر ذرائع اور مستقبل میں فوجی تصادم کے امکانات کو کم کرنے جیسے امور زیر بحث آئے، تاہم ان مذاکرات سے کوئی نمایاں یا ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔










