پنجاب میں کشمیری گوشت تاجروں کیخلاف کارروائی غیر منصفانہ :عمر
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۹ جون
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی اور برآمدات میں اضافہ کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں اور سرینگر میں منعقدہ جموں و کشمیر انٹرنیشنل بائر۔سیلر میٹ۲۰۲۶ اس سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔
شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں دو روزہ بین الاقوامی خریدار۔فروخت کنندہ اجلاس کا افتتاح کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ کے دو طریقے ہیں، یا تو مقامی دستکاروں کو بیرونِ ملک لے جایا جائے یا خریداروں کو جموں و کشمیر مدعو کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’چونکہ ہم اتنی بڑی تعداد میں دستکاروں کو باہر نہیں لے جا سکتے، اس لیے ہم نے جموں و کشمیر انٹرنیشنل بائر۔سیلر میٹ۲۰۲۶ کا انعقاد کیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں کہ ایران۔امریکہ جنگ کے باعث بعض ممالک کے نمائندے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے، عمر عبداللہ نے کہا کہ اجلاس میں بھرپور شرکت دیکھنے کو ملی ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’مجھے معلوم نہیں آپ کتنے شرکاء کی توقع کر رہے تھے، لیکن ہمارے پاس۱۶ ممالک سے۴۰ خریدار موجود ہیں، جو افریقہ، آسٹریلیا، شمالی امریکہ، یورپ اور ایشیا سمیت مختلف براعظموں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ شاید چند ہی ایسے خطے ہوں جہاں سے کوئی نمائندہ نہیں آیا۔ ممکن ہے جنگ کے باعث کچھ لوگ نہ آ سکے ہوں، امید ہے کہ آئندہ وہ بھی شرکت کریں گے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دو روزہ اجلاس میں تربیت اور رہنمائی کا پہلو بھی شامل رکھا گیا ہے تاکہ موجودہ برآمد کنندگان کے ساتھ ساتھ وہ افراد بھی فائدہ اٹھا سکیں جو مستقبل میں برآمدات کے شعبے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نہ صرف موجودہ برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں بلکہ ایسے افراد کو بھی برآمدی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں جو ابھی تک اس شعبے سے وابستہ نہیں ہیں۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں طویل بدامنی اور سیاحت میں کمی کے باعث دستکاروں اور تاجروں کو اپنے کاروباری ماڈل میں بنیادی تبدیلیاں لانا پڑیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس وقت جموں و کشمیر کی تقریباً۹۸ فیصد برآمدات صرف چار اضلاع سے ہو رہی ہیں، جبکہ باقی تمام اضلاع کا مجموعی حصہ محض دو فیصد ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں برآمدی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ برآمد کنندگان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور جموں و کشمیر کے ہر علاقے کو برآمدی سرگرمیوں سے جوڑا جائے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے بنیادی ڈھانچے کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں فوری طور پر ڈرائی پورٹ (خشک بندرگاہ) قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’ہمیں فوری طور پر ایک ڈرائی پورٹ کی ضرورت ہے۔ آج ہماری مصنوعات یہاں سے برآمد ہوتی ہیں، لیکن ان پر مہر کسی دوسری ریاست میں لگتی ہے، جس کے باعث برآمدات کا کریڈٹ بھی اسی ریاست کے کھاتے میں جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ برآمدات سے متعلق تمام کارروائیاں جموں و کشمیر کے اندر ہی مکمل ہوں تاکہ ہمارے تاجروں کے لیے برآمدات آسان ہوں اور ان کا اندراج ہمارے اپنے کھاتے میں ہو۔‘‘
کشمیر میں اس سال سیاحوں کی آمد کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ اعداد و شمار پر بات نہیں کرنا چاہتے۔
انہوں نے کہا، ’’براہ کرم اعداد و شمار پر نہ جائیں، کیونکہ پھر ہمیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ آ رہے ہیں، ٹریفک جام لگ رہے ہیں، گلمرگ بھر چکا ہے، پہلگام بھر چکا ہے اور لوگ روزگار کما رہے ہیں۔ انہیں روزگار کمانے دیں۔‘‘
مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو کوئی تیسرا ملک سبوتاژ نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا، ’’ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہوا، صرف مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔ حتمی معاہدے اور ایم او یو میں فرق ہوتا ہے۔ دونوں ممالک نے خود کو پندرہ دن کا وقت دیا ہے، لیکن اس کے باوجود بمباری جاری ہے۔ ایران پر حملے ہوئے ہیں، کویت اور بحرین بھی نشانہ بنے ہیں۔ اس لیے جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امید ہے دونوں ممالک اس مدت کو مثبت انداز میں استعمال کریں گے تاکہ کوئی تیسرا ملک جنگ بندی کو ناکام نہ بنا سکے۔
پنجاب میں جموں و کشمیر کے گوشت تاجروں کے خلاف کارروائی کو وزیر اعلیٰ نے ’’غیر منصفانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ دوبارہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’میں کئی ماہ سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے مسلسل رابطے میں ہوں اور ایک بار پھر انہیں خط لکھا ہے۔ ہمارے گوشت کے تاجر صرف پنجاب کو راہداری کے طور پر استعمال کرتے ہیں، وہ وہاں مویشی نہیں خریدتے۔ محض پنجاب سے گزرنے کی بنیاد پر انہیں سزا دینا مناسب نہیں۔ ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی غیر منصفانہ ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو اسے نارتھ زون اسٹیٹ کونسل میں اٹھایا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر مرکزی حکومت کی مداخلت بھی طلب کی جائے گی تاکہ جموں و کشمیر کے تاجروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
عمرعبداللہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مقامی تاجروں، برآمد کنندگان، دستکاروں اور صنعت کاروں کو درپیش مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں قومی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔










