ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۷جون
کانگریس کے سینئر رہنما اور جموں و کشمیر کے سابق صدرِ ریاست (صدرِ ریاسَت) ڈاکٹر کرن سنگھ نے ہفتہ کے روز جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام کو اس کے لیے مرکز کے سامنے بھیک نہیں مانگنی چاہیے۔
سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کرن سنگھ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال ہونا چاہیے، کیونکہ حکومت ہند اس کا وعدہ کر چکی ہے۔
سنگھ نے کہا’’میرے خیال میں ریاستی درجہ بحال ہونا چاہیے۔ حکومتِ ہند نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ریاستی درجہ بحال کرے گی۔ ہم کبھی ملک کی سب سے بڑی ریاست تھے، اس لیے ہمیں ریاستی درجے کے لیے بھیک نہیں مانگنی چاہیے۔ یہ انہیں دینا ہے۔ اب وہ کب دیتے ہیں، اس کا فیصلہ انہی کو کرنا ہے، ہم انہیں مجبور نہیں کر سکتے‘‘۔
کرن سنگھ نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج (این سی پی یو ایل) اور انٹر فیتھ ہارمنی فاؤنڈیشن آف انڈیا کے اشتراک سے ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ بین المذاہب مکالمہ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام پر زور دیا کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو برقرار رکھیں۔
سابق صدر ریاست نے کہا’’لوگوں کو جموں اور کشمیر کے درمیان تعلقات کو بھی مضبوط رکھنا چاہیے، جو بعض اوقات کمزور پڑ جاتے ہیں، تاکہ ہماری یہ ریاست ترقی کرے، پورے ہندوستان کی نمائندگی کرے اور ملک کے لیے ایک مثال بنے‘‘۔
سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کا باہمی اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ رہنا نہایت ضروری ہے۔
سنگھ نے کہا’’یہ بہت ضروری ہے، ورنہ اختلافات بڑھتے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ ہندوستان تقسیم ہو کر تین حصوں میں بٹ گیا تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلیں۔ بین المذاہب مکالمے کا مقصد بھی یہی ہے کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ بیٹھیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔‘‘










