ایجنسیاں
سرینگر؍۲۶ جون
کانگریس رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور کی سربراہی میں قائم پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ کو لداخ کے دورے کے دوران خطے کو درپیش اہم ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز سے آگاہ کیا گیا، جن میں نازک ماحولیاتی نظام اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت نمایاں ہیں۔
کمیٹی نے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ سے ملاقات کی، جنہوں نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے اراکین کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ کمیٹی کو لداخ کے حساس ماحولیاتی نظام، ماحولیاتی خدشات اور پانی کی قلت جیسے اہم مسائل سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے پانی کے تحفظ اور ماحولیات کی بحالی کے لیے ہِم سروور پروجیکٹ، سندھو جل سمردھی ابھیان کے تحت راک چیک ڈیموں کی تعمیر اور بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم جیسے اقدامات جاری ہیں۔ ان کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے ان کوششوں کو سراہتے ہوئے لداخ کی ترقیاتی اور ماحولیاتی ضروریات کے حل کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
دریں اثنا، کرگل کے دورے کے دوران پارلیمانی کمیٹی نے کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے خطے سے متعلق کئی دیرینہ سیاسی اور ترقیاتی مطالبات پیش کیے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی)، لداخ کے دو اہم سول سوسائٹی پلیٹ فارم ہیں، جو خطے کے مطالبات کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ ان کے اہم مطالبات میں لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینا، آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظ فراہم کرنا، الگ پبلک سروس کمیشن کا قیام اور سیاسی نمائندگی میں اضافہ شامل ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے بتایا کہ انہوں نے لداخ کے رکنِ پارلیمنٹ حاجی حنیفہ جان اور شریک چیئرمین حاجی اصغر علی کربلائی کے ہمراہ ششی تھرور سے ملاقات کی اور لداخ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
وفد نے لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اور اسے آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبے کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ تاریخی کارگل۔اسکردو راستے کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے، لداخ کے لیے علاقائی پاسپورٹ دفتر اور کارگل میں مکمل پاسپورٹ آفس قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
نمائندوں نے ایران میں پھنسے کرگل کے طلبہ کی مشکلات سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا، جبکہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہُنڈرمن کے مقام پر ملاقاتی مرکز قائم کرنے کی درخواست کی، تاکہ لداخ اور گلگت بلتستان کے وہ خاندان، جو کئی دہائیوں سے ایک دوسرے سے جدا ہیں، دوبارہ مل سکیں۔
سجاد کرگلی نے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ لداخ کے دیرینہ مسائل اور مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پارلیمانی کمیٹی اس سے قبل جموں و کشمیر کا دورہ بھی کر چکی ہے اور سرحدی انتظام، سکیورٹی انتظامات اور سرحدی علاقوں کی ترقیاتی صورتحال کا جائزہ لینے کے سلسلے میں بدھ کو لداخ پہنچی تھی۔
ششی تھرور نے۲۲ جون کو جموں میں کہا تھا کہ کمیٹی کے جموں و کشمیر اور لداخ کے دورے کا مقصد تین اہم موضوعات، یعنی ب ہند۔پاکستان تعلقات، ہند۔چین تعلقات، اور پاسپورٹ دفاتر و پاسپورٹ خدمات کے نظامِ کار کا جائزہ لینا ہے۔










