ایجنسیاں
نئی دہلی؍۲۶ جون
حکومت ہند نے آپریشن ’سندور‘ کے دوران شہید ہونے والے چھ فوجی اہلکاروں کے نام پہلی مرتبہ جاری کر دیے ہیں۔ یہ آپریشن گزشتہ سال مئی میں پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں پاکستان کے خلاف بھارت کی فوجی کارروائی تھا۔
آپریشن کے بعد پہلی بار حکومت نے ان شہداء کے نام عوام کے سامنے لاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کے نام قومی دارالحکومت نئی دہلی میں واقع نیشنل وار میموریل پر کندہ کیے جائیں گے۔
شہید ہونے والوں میں بھارتی فوج کے پانچ اور بھارتی فضائیہ کا ایک اہلکار شامل ہے۔ ان میں صوبیدار میجر پون کمار، رائفل مین سنیل کمار، لانس نائک دنیش کمار، اگنی ویر مرلی نائک، حوالدار سنیل کمار سنگھ اور بھارتی فضائیہ کے سارجنٹ سریندر کمار شامل ہیں، جنہوں نے دورانِ ڈیوٹی وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
آپریشن سندور کے ان جانبازوں کے نام ان تمام فوجیوں کی فہرست کے ساتھ جاری کیے گئے ہیں جنہوں نے سال۲۰۲۵ کے دوران مختلف فوجی کارروائیوں میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
قومی جنگی یادگار میں موجود ’تیاگ چکر‘ (قربانی کا دائرہ) ملک کے ان بہادر سپاہیوں کے نام منسوب ہے جنہوں نے آزادی کے بعد وطن کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں۔ یہ یادگار۱۶ گول گرینائٹ دیواروں پر مشتمل ہے، جن پر ہر شہید فوجی کا نام، عہدہ اور یونٹ کندہ کیا گیا ہے۔
اب آپریشن سندور کے یہ چھ شہداء بھی اس قومی یادگار کا ہمیشہ کے لیے حصہ بن جائیں گے۔
واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ سال۷ مئی کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گرد حملے، جس میں۲۶؍ افراد ہلاک ہوئے تھے، کے جواب میں پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے تھے۔
پاکستان نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فضائی جھڑپیں، ڈرون حملے اور سرحدی علاقوں میں شدید گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اس فوجی کارروائی کو’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا تھا، جس کی علامتی اہمیت بھی بیان کی گئی۔ ’سندور‘ ہندو شادی شدہ خواتین کی مانگ میں لگائے جانے والے سرخ رنگ کو کہا جاتا ہے، اور اس نام کا انتخاب ان خواتین کے شوہروں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی علامت کے طور پر کیا گیا تھا، جو پہلگام دہشت گرد حملے میں مارے گئے تھے۔
دونوں ممالک کے درمیان چار روز تک جاری رہنے والی یہ کشیدگی۱۰ مئی کو اختتام پذیر ہوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔










