اس فیسٹیول کا بنیادی مقصد طلبہ کو ان کھیلوں سے روشناس کرانا تھا جو کبھی ان کے والدین اور اساتذہ کھیلا کرتے تھے:جواد
(ندائےمشرق خبر)
بانڈی پورہ؍۲۵ جون
نوجوان طلبہ کو ان کی ثقافتی جڑوں سے دوبارہ جوڑنے اور ان کی ہمہ جہت ترقی کو فروغ دینے کیلئے ایک منفرد پہل کے تحت‘ پی ایم شری گورنمنٹ سیکنڈری اسکول‘ لہر وال پورہ، بانڈی پورہ میں ’بیگ لیس ڈے‘ (بستے کے بغیر دن) کو ایک عظیم ’روایتی کھیلوں کے تہوار‘ کے طور پر منایا گیا۔ اس منفرد میلے میں پانچ پڑوسی اسکولوں کے۵۰۰سے زائد طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔
اس تقریب نے اسکول کے کیمپس کو مقامی اور روایتی کھیلوں کے ایک جاندار میدان میں تبدیل کر دیا۔ طلبہ نے تقریباً۱۵؍ ایسے روایتی کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیا جو کبھی کشمیری بچپن کا لازمی حصہ ہوا کرتی تھیں، لیکن اب وہ عوامی یادداشت سے دھیرے دھیرے اوجھل ہو رہی ہیں۔ اس میلے کی خاص بات یہ تھی کہ ان کھیلوں کے لیے درکار زیادہ تر سامان خود طلبہ نے تیار کیا تھا، جس سے ان میں تخلیقی صلاحیت، باہمی تعاون اور خود انحصاری کے جذبے کو فروغ ملا۔
میلے کے مقاصد اور سرگرمیاں
پی ایم شری گورنمنٹ سیکنڈری اسکول‘ لہر وال پورہ، کے ہیڈ ماسٹر‘ جاوید جواد کہتے ہیں ’’اس فیسٹیول کا بنیادی مقصد طلبہ کو ان کھیلوں سے روشناس کرانا تھا جو کبھی ان کے والدین اور اساتذہ کھیلا کرتے تھے، تاکہ ان کا مقامی روایات اور ثقافتی ورثے کے ساتھ رشتہ مضبوط ہو سکے۔ اس کے علاوہ، اس کا مقصد نوجوان نسل کو اسمارٹ فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کا ایک صحت مند متبادل فراہم کرنا بھی تھا، جو ان کی جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے‘‘۔
تقریب کا افتتاح جواد نے گورنمنٹ مڈل اسکول ریشی محلہ، پرائمری اسکول ہم محلہ، پرائمری اسکول فشر مین کالونی، اور پرائمری اسکول فرہنگ محلہ کے اساتذہ اور طلبہ کی موجودگی میں کیا۔ تہوار کا آغاز علامتی طور پر پتنگ اڑا کر کیا گیا، جس نے پورے ماحول کو خوشی، جوش اور اجتماعی شرکت کے رنگ میں رنگ دیا۔
میلے کے دوران پتنگ بازی ‘ہاپ اسکاچ (چنڈ پڈ)گلی ڈنڈا‘ٹک واوج اورکنکریوں کا کھیل (گیٹے)اور دیگر روایتی کھیل شامل تھے ‘جنہوں نے شرکاء اور تماشائیوں دونوں کو مسحور کر دیا۔ طلبہ نے اس پر مسرت تجربے پر گہرے جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیکھنے کا ایک یادگار موقع قرار دیا۔
اختتامی سیشن میں سینٹرل بیورو آف کمیونیکیشن (جموں و کشمیر اور لداخ) کے سابق ڈائریکٹر غلام عباس (آئی آئی ایس) اور معروف سماجی کارکن رفیق طاہر کاؤچیکی نے شرکت کی اور طلبہ و اساتذہ سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے تعلیم کے تئیں اسکول کے اس اختراعی انداز کی ستائش کی اور مہارت پر مبنی سیکھنے تجرباتی تعلیم، اور نوجوانوں میں محنت کے جذبے کو پروان چڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
مہمانوں نے تعلیم کے ذریعے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اسکول کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف جسمانی فٹنس اور سماجی روابط کو فروغ دیتے ہیں بلکہ طلبہ میں اپنی شناخت، تعلق اور فخر کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر جیتنے والے بچوں میں مطالعے کے رجحان کو فروغ دینے اور اسے مضبوط بنانے کے لیے بچوں کے رسائل بطور انعام تقسیم کیے گئے۔
اس موقع پر کاؤچیکی نے روایتی کھیلوں پر مبنی اپنا کشمیری کلام پیش کیا، جس نے سامعین کو مسحور کر دیا اور تقریب میں ایک نیا جوش و ولولہ بھر دیا۔
یہ روایتی کھیلوں کا تہوار انتہائی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جہاں تمام شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کو متحرک رکھنے اور مقامی کھیلوں کو زندہ رکھنے کے لیے ایسے معلوماتی اور تفریحی پروگراموں کا انعقاد باقاعدگی سے کیا جانا چاہیے۔










