مانچسٹر، 24 جون (یواین آئی )آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں ملی شکست کے بعد ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم جمعرات کو مانچسٹر میں گروپ اے کے ایک انتہائی اہم مقابلے میں بنگلہ دیش کے مدمقابل ہوگی۔ اس میچ میں ہندوستان کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی حالیہ خامیوں، بالخصوص مڈل آرڈر بیٹنگ اور فیلڈنگ کی کمزوریوں پر قابو پا کر سیمی فائنل کے لیے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرے۔اگرچہ بہندوستانی ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ میں بہتر پوزیشن پر ہے، تاہم گزشتہ میچ کی غلطیوں نے ٹیم انتظامیہ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
ٹورنامنٹ میں اب تک اسمرتی مندھانا اور شیفالی ورما کی اوپننگ جوڑی ہندوستان کے لیے سب سے بڑا مثبت پہلو ثابت ہوئی ہے۔ مندھانا نے 3 میچوں میں 159 رنز بنائے ہیں جبکہ شیفالی نے 92 رنز کا تعاون دیا ہے۔ دونوں کا اسٹرائیک ریٹ 154 سے زائد رہا ہے، جس کی بدولت ہندوستان کو مسلسل اچھے آغاز مل رہے ہیں۔
تاہم، اصل مسئلہ مڈل آرڈر کا ہے جو اس رفتار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے۔ کپتان ہرمن پریت کور (اسٹرائیک ریٹ 109.09)، جیمیما روڈریگز (اسٹرائیک ریٹ 94.11) اور یاستیکا بھاٹیا (اسٹرائیک ریٹ 105.88) رنز بنانے کی رفتار تیز کرنے کے لیے جدوجہد کرتی نظر آئی ہیں، جس سے مڈل اوورز میں اننگز سست ہو جاتی ہے۔
نتیجتاً، اننگز کو ختم کرنے کی تمام تر ذمہ داری رچا گھوش اور دیپتی شرما پر آ گئی ہے، جنہوں نے بالترتیب 176.92 اور 159.37 کے جارحانہ اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائے ہیں، لیکن آخری لمحات میں کم گیندیں ملنے کے باعث ان کا اثر محدود ہو جاتا ہے۔
آسٹریلیا مسلسل چار فتوحات اور 8 پوائنٹس کے ساتھ گروپ اے میں پہلے نمبر پر موجود ہے اور اس کا نیٹ رن ریٹ (4.724) بھی شاندار ہے۔ پاکستان کے خلاف 64 رنز اور نیدرلینڈز کے خلاف 95 رنز کی بڑی فتوحات کی بدولت ہندوستان کا نیٹ رن ریٹ 2.511 ہے اور وہ 4 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر براجمان ہے۔ جنوبی افریقہ کے بھی 4 پوائنٹس ہیں، لیکن نیٹ رن ریٹ کم ہونے کی وجہ سے وہ تیسرے نمبر پر ہے۔ چونکہ ہر گروپ سے صرف دو ٹیمیں ہی سیمی فائنل میں جائیں گی، اس لیے ہندوستان بنگلہ دیش کو ہرا کر دوسری پوزیشن پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہے گا۔
گزشتہ میچ میں جنوبی افریقہ نے بہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ پاور پلے میں جنوبی افریقہ کا اسکور 25 رنز پر 2 وکٹیں کرنے کے بعد ہندوستانی اسپنرز اس کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اگرچہ شری چرنی نے ایک ہی اوور میں دو وکٹیں لے کر امید جگائی، لیکن خراب فیلڈنگ نے پانی پھیر دیا۔ میچ کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ وہ تھا جب ٹیم کی بہترین فیلڈر رادھا یادو نے جنوبی افریقی آل راؤنڈر ماریزین کیپ کے دو کیچ چھوڑے۔ کیپ نے ناٹ آؤٹ 81 رنز بنا کر میچ ہندوستان کے ہاتھوں سے چھین لیا۔
دوسری جانب، بنگلہ دیش کی ٹیم پاکستان کو 23 رنز اور دفاعی چیمپئن نیوزی لینڈ کو 6 وکٹوں سے ہرا کر بلند حوصلوں کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ بنگلہ دیش کی کامیابی کا راز کسی ایک اسٹار کھلاڑی پر نہیں بلکہ پوری ٹیم کی مجموعی (اجتماعی) کارکردگی پر منحصر ہے۔ ایسے میں بھارت کو اگر سیمی فائنل کا ٹکٹ پکا کرنا ہے، تو اسے بنگلہ دیش کے خلاف کسی بھی قسم کی غلطی سے گریز کرتے ہوئے اپنا بہترین کھیل پیش کرنا ہوگا۔






