ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۴ جون
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر وکست بھارت’گارنٹی فار روزگار اینڈ اجیویکا مشن (دیہی) اسکیم۲۰۲۶ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جو یکم جولائی۲۰۲۶ سے مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے تمام نوٹیفائیڈ دیہی علاقوں میں نافذ العمل ہوگی۔
یہ اسکیم وکست بھارت’گارنٹی فار روزگار اینڈ اجیویکا مشن ‘(دیہی) ایکٹ۲۰۲۵ کی دفعہ۳(۱) اور دفعہ۸ کے تحت نافذ کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کی جگہ ایک نئے اور جامع روزگار و معاشی ترقیاتی نظام کا آغاز ہوگا، جو وکست بھارت۲۰۴۷ کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔
اس اسکیم کے تحت ہر اہل دیہی خاندان، جو غیر ہنر مند دستی مزدوری کرنے کے لیے تیار ہو، کو سالانہ۱۲۵ دن کے اجرتی روزگار کی گارنٹی فراہم کی جائے گی، جو سابقہ۱۰۰ دن کی گارنٹی سے۲۵ دن زیادہ ہے۔
اسکیم کے مطابق روزگار کی درخواست کے۱۵ دن کے اندر کام فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ بصورت دیگر درخواست گزار بے روزگاری الاؤنس کا مستحق ہوگا۔ مزدوری کی ادائیگی ہفتہ وار یا زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کے اندر کی جائے گی، جبکہ ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں معاوضہ بھی دیا جائے گا۔
زرعی پیداوار کے تحفظ کے پیش نظر نئی اسکیم میں بوائی اور فصل کی کٹائی کے اہم ادوار کے دوران عوامی ترقیاتی کاموں پر۶۰ دن کا لازمی وقفہ رکھا گیا ہے تاکہ زراعت کے لیے مزدوروں کی دستیابی متاثر نہ ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ اسکیم کے تحت پائیدار عوامی اثاثوں اور دیرپا معاشی انفراسٹرکچر کی تعمیر کو ترجیح دی جائے گی۔
وی بی-جی رام-جی اسکیم چار اہم شعبوں پر مرکوز ہوگی، جن میں آبی تحفظ، بنیادی دیہی انفراسٹرکچر، معاشی و روزگار میں اضافہ، اور موسمیاتی و قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت شامل ہیں۔
ترقیاتی منصوبہ بندی وکست گرام پنچایت پلان کے ذریعے کی جائے گی، جس میں جی آئی ایس پر مبنی ٹیکنالوجی اور پی ایم گتی شکتی پلیٹ فارمز کا استعمال کیا جائے گا تاکہ مختلف اسکیموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہو، وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے اور ترقیاتی کاموں میں تکرار سے بچا جا سکے۔
اسکیم کے تحت کمزور اور خصوصی ضرورتوں کے حامل طبقات کے لیے خصوصی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ ان میں تنہا خواتین، معذور افراد، بزرگ شہری، خاص طور پر کمزور قبائلی گروہوں کے ارکان، رہائی پانے والے جبری مشقت کے متاثرین اور خواجہ سرا افراد شامل ہیں، جنہیں خصوصی گرامین روزگار گارنٹی کارڈز جاری کیے جائیں گے۔
اس پروگرام کے تحت کم از کم ایک تہائی مستفیدین خواتین ہوں گی۔حکام کے مطابق روزگار کی گارنٹی میں اضافے، زراعت دوست ڈیزائن، ٹیکنالوجی پر مبنی شفاف نظام اور مضبوط دیہی انفراسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ کے باعث وی بی-جی رام-جی اسکیم جموں و کشمیر میں جامع، پائیدار اور مستقبل پر مبنی دیہی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔










