دل کے مریض نہ ہونے کے باوجود کارڈیک سرجریاں کرانے کا الزام
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۰جون
گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر طبی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے بعد ایک ڈاکٹر کو ہفتہ کے روز معطل کر دیا گیا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ جن مریضوں پر جدید کارڈیک سرجریاں کی گئیں، ان میں سے تقریباً۵۰فیصد کو درحقیقت ان سرجریوں کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
جموں و کشمیر کے محکمہ صحت و طبی تعلیم نے انشورنس اسکیموں میں مبینہ دھوکہ دہی، مریضوں کے استحصال اور صحت مند افراد پر غیر ضروری طبی کارروائیوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے جی ایم سی اننت ناگ کے ماہر امراض قلب‘ ڈاکٹر سید مقبول احمد شاہ کو بڑے پیمانے پر طریقہ کار کی بے ضابطگیوں اور سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
یہ معاملہ مبینہ پیس میکر امپلانٹیشن اسکینڈل سے متعلق ہے، جس میں۱۰۳قلبی مریض شامل ہیں۔ ماہرین کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ۵۵مریضوں میں سے۲۷؍ ایسے تھے جن کے دل کی کارکردگی بالکل نارمل تھی اور ان پر یہ طبی کارروائی انجام دینے کی کوئی طبی ضرورت موجود نہیں تھی۔
محکمہ صحت کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا’’ڈاکٹر سید مقبول احمد شاہ، ایسوسی ایٹ پروفیسر کارڈیالوجی، جو اس وقت گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں تعینات ہیں، ان کے طرز عمل کی تحقیقات مکمل ہونے تک جموں و کشمیر سول سروسز (درجہ بندی، کنٹرول و اپیل) قواعد۱۹۵۶کے رول۳۱ کے تحت فوری طور پر معطل کیے جاتے ہیں‘‘۔
کمشنر سیکریٹری صحت و طبی تعلیم ایم راجو کی جانب سے جاری اس حکم میں مزید کہا گیا کہ معطلی کے دوران ڈاکٹر مقبول کو گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے دفتر سے منسلک رکھا جائے گا۔
ریاستی وزیر صحت سکینہ ایتو نے کہا کہ ماہر امراض قلب کے خلاف تحقیقات متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد شروع کی گئی تھیں۔
کولگام میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’حقائق سامنے لانے کے لیے حکومت نے شکایات موصول ہونے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ جب تحقیقات میں کچھ اہم نتائج سامنے آئے تو ہم نے ڈاکٹر کو معطل کر دیا۔ ہم نے ان سے وضاحت طلب کی ہے‘‘۔
ایتو نے مزید کہا’’آج معطلی کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ میں تمام ڈاکٹروں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ عوام کی زندگیوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ حکومت آپ کو تنخواہ دیتی ہے اور یہ ملازمت عوام کی خدمت اور مریضوں کی نگہداشت کے لیے ہے۔ حکومت اس معاملے پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہے، کارروائی کی جا چکی ہے اور جو مزید ضروری ہوگا وہ بھی کیا جائے گا‘‘۔
ڈاکٹر کے خلاف عائد الزامات میں سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی، نظامی دھوکہ دہی، مریضوں کا استحصال، نجی سپلائرز کے ساتھ ملی بھگت، غیر مجاز طبی مداخلتیں اور ایک سرکاری ملازم کے شایانِ شان نہ ہونے والا طرز عمل شامل ہیں۔
محکمہ کے مطابق’’آپ نے ٹرانزیکشن مینجمنٹ سسٹم(ٹی ایم ایس)میں ڈوئل چیمبر پیس میکر امپلانٹیشن پیکیج کے تحت۱۰۳کیس درج کیے اور ان کے کلیمز حاصل کیے، جبکہ جسمانی ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے دراصل لیفٹ بنڈل برانچ ایریا پیسنگ(ایل بی بی اے پی) انجام دی۔ یہ دانستہ غلط بیانی پی ایم جے اے وائی/صحت اسکیم کے فنڈز حاصل کرنے کے لیے کی گئی‘‘۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ڈاکٹر نے مریضوں پر بغیر کسی طبی جواز کے پیچیدہ اور انتہائی مداخلت والی ایل بی بی اے پی کارروائیاں انجام دیں۔
ایک آزاد ماہرانہ جائزے کے مطابق۵۵ مشتبہ ایل بی بی اے پی کیسز میں سے۲۷ مریضوں (۴۹فیصد) کے دل کے بائیں وینٹریکل کی کارکردگی مکمل طور پر نارمل تھی۔ ایسے مریضوں پر یہ طریقہ کار اپنانا مریضوں کی سلامتی اور طبی اخلاقیات سے صریح بے اعتنائی کے مترادف قرار دیا گیا۔
یہ انکشافات دسمبر۲۰۲۵ میں اس وقت سامنے آئے جب اسٹیٹ ہیلتھ ایجنسی نے ادارے سے ایل بی بی اے پی سے متعلق دعوؤں میں غیر معمولی اضافے کا نوٹس لیا اور ماہرانہ آڈٹ کرایا۔
ڈاکٹر مقبول کو ایک ہفتے کے اندر تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، بصورت دیگر ان کے خلاف یکطرفہ محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔تحقیقات میں پی ایم جے اے وائی۔صحت اسکیم کے مستفیدین کے مالی استحصال کے بھی الزامات سامنے آئے ہیں۔
محکمہ نے الزام عائد کیا’’آپ نے پی ایم جے اے وائی/صحت اسکیم کے مکمل مفت اور کیش لیس اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غریب مریضوں کو سرکاری اسپتال میں ہونے والی کارروائیوں کے لیے اپنی جیب سے رقم ادا کرنے پر مجبور کیا‘‘۔
ایک مریض کے حوالے سے محکمہ نے بتایا کہ اسے ایک نجی کمپنی کو۷۰ ہزار روپے ادا کرنے پر مجبور کیا گیا۔محکمہ کے مطابق’’یہ عوامی فلاحی اسکیم کے مستحق افراد کا مالی استحصال ہے جو سنگین مجرمانہ بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے‘‘۔
محکمہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ڈاکٹر نے جی ایم سی اننت ناگ کے مقررہ سپلائی نظام کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا۔
الزام نامے میں کہا گیا’’ضروری طبی آلات کی خریداری کے لیے آپ نے لازمی سرکاری طریقہ کار اختیار نہیں کیا، بلکہ نجی بیرونی سپلائرز کے ساتھ غیر قانونی تعاون کیا، جس سے اسپتال کے شفافیت، معیار اور جوابدہی کے نظام کو نقصان پہنچا‘‘۔
تحقیقات کے دوران متعدد خریداری ریکارڈ فراہم نہیں کیے گئے، جس سے شواہد چھپانے کے خدشات بھی پیدا ہوئے۔
یادداشت میں بتایا گیا کہ ریاستی اینٹی فراڈ یونٹ(ایس اے ایف یو)کو متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں کہ جی ایم سی اننت ناگ میں غریب مریضوں سے جیب سے اخراجات کرائے جا رہے ہیں۔
ابتدائی آڈٹ میں معلوم ہوا کہ کارڈیالوجی شعبے کے تحت۱۰۳کیسز کو ڈوئل چیمبر پیس میکر پیکیج میں درج کیا گیا تھا۔۱۹ دسمبر۲۰۲۵کو ایس اے ایف یو ٹیم نے جی ایم سی اننت ناگ کا اچانک معائنہ کیا، جس کے دوران میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، کیتھ لیب انچارج، اکاؤنٹس سیکشن اور امرت اسٹور کے ذمہ داران سے پوچھ گچھ کی گئی۔
تحقیقات کے مطابق اسپتالی ضابطے کے برعکس ڈاکٹر نے مطلوبہ طبی آلات براہ راست نجی سپلائرز سے حاصل کیے۔ اس سرگرمی کو چھپانے کے لیے مقامی امرت اسٹور انتظامیہ نے اپریل۲۰۲۵سے خریداری کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔
تحقیقاتی ٹیم نے مریضوں کی فائلوں کا بے ترتیب جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ آن لائن نظام میں تمام آپریشن نوٹسز کو ڈوئل چیمبر پیس میکر امپلانٹیشن ظاہر کیا گیا تھا، جبکہ اصل ریکارڈ میں صورتحال مختلف تھی۔پیر رفیق احمد نامی مریض کے گھر جا کر کی گئی تصدیق میں معلوم ہوا کہ اس سے۷۰ ہزار روپے وصول کیے گئے تھے۔
یادداشت میں کہا گیا’’یہ رقم ایک نجی فرم M/s SSB Combination کو اسپتالی نظام سے باہر جاری کردہ انوائس کے ذریعے ادا کی گئی۔ مریض نے واضح طور پر تصدیق کی کہ ڈاکٹر مقبول نے نہ صرف کارروائی انجام دی بلکہ مالی لین دین کے لیے بھی ہدایات دیں‘‘۔
آن لائن کلیمز اور کیتھ لیب رجسٹر کے تقابلی جائزے میں بھی یہی ثابت ہوا کہ فنڈز ڈوئل چیمبر پیس میکر کے نام پر حاصل کیے گئے جبکہ حقیقت میں ایل بی بی اے پی کی گئی تھی۔بعد ازاں اسٹیٹ ہیلتھ ایجنسی نے بڑھتے ہوئے ایل بی بی اے پی کیسز کے پیش نظر ریکارڈ کا جائزہ لینے کے لیے ایس کے آئی ایم ایس صورہ کے شعبہ کارڈیالوجی کے سربراہ سے ماہرانہ رائے طلب کی۔
ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہا’’ان۲۷؍افراد پرایل بی بی اے پی انجام دینے کی کوئی طبی وجہ موجود نہیں تھی، لہٰذا اسٹیٹ ہیلتھ ایجنسی نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا‘‘۔ایس کے آئی ایم ایس کے ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ ڈاکٹر مقبول نے ’سنگین نوعیت کی طریقہ کار کی غلط بیانی‘ کی۔
ان کے مطابق’’انہوں نے سرکاری نظام میں غلط معلومات درج کیں، حکومتی سپلائی چین کو نظر انداز کیا اور ایسے مریضوں سے رقم وصول کی جو قانونی طور پر مفت علاج کے مستحق تھے۔ یہ فرائض سے غفلت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سنگین طبی بدعنوانی کی مثال ہے‘‘۔
یادداشت میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر کا طرز عمل ایک سرکاری ملازم کے شایانِ شان نہیں، انہوں نے اپنے فرائض سے وفاداری کا مظاہرہ نہیں کیا اور سنگین بدانتظامی کے مرتکب ہوئے ہیں، جس پر انہیں ملازمت سے برطرف کرنے سمیت سخت تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
حکومت نے جموں و کشمیر سول سروس (درجہ بندی، کنٹرول و اپیل) قواعد۱۹۵۶کے تحت ڈاکٹر مقبول کے خلاف باضابطہ محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی تجویز بھی پیش کر دی ہے۔(ایجنسیاں)










