سفید، گلابی اور جامنی پھولوں کی بہار نے سیاحوں کو مسحور کر دیا‘ضلع انتظامیہ کی فاکس گلوو فیسٹیول منعقد کرنے کی تیاری
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۹ جون
گھنٹی نما سفید، گلابی اور جامنی رنگ کے فاکس گلوو پھولوں سے ڈھکی بھدرواہ وادی ان دنوں ماحولیاتی سیاحت کے شوقین افراد اور پھولوں کے دلدادہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ یورپی نسل کے یہ پھول ہمالیائی خطے میں قدرتی طور پر بڑی تعداد میں کھل رہے ہیں، جس کے بعد مقامی باشندوں اور سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد نے بھدرواہ کو ایک منفرد ’پھولوں کی سیاحتی منزل‘کے طور پر فروغ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق فاکس گلوو، جس کا سائنسی نام ڈیجیٹالس پرپیوریا ہے، یورپ اور بحیرۂ روم کے بعض علاقوں کا مقامی پودا ہے۔ یہ پھول بھدرواہ کے بلند پہاڑی میدانوں اور ڈھلوانوں کے وسیع حصوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جائی ویلی، گلدندا، تھنتھیرا، ہنگا، پڈری، بھل پڈری، کھنی ٹاپ، بچ دھار اور بھدرواہ،پٹھانکوٹ و بھدرواہ ،چمبہ بین الریاستی شاہراہوں کے بالائی علاقوں میں اس وقت یہ پھول پوری آب و تاب کے ساتھ کھلے ہوئے ہیں۔
مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والے سیاح اکشے پال نے کہا کہ بستی سے چٹّرگلہ تک تقریباً۳۵ کلومیٹر طویل سڑک کے دونوں جانب فاکس گلوو کے پھول دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اب تک یہی معلوم تھا کہ یہ پھول صرف یورپ میں اگتے ہیں، لیکن بھدرواہ میں ان کا یہ نظارہ ان کے سفر کی سب سے یادگار بات بن گیا۔
ناگپور سے تعلق رکھنے والی پھولوں کی شوقین کویتا نے بتایا کہ انہوں نے ان پھولوں کے بارے میں آن لائن معلومات حاصل کرنے کے بعد خصوصی طور پر بھدرواہ کا سفر کیا۔ ان کے مطابق بھدرواہ ہندوستان کے ان چند مقامات میں شامل ہے جہاں فاکس گلوو اتنی بڑی تعداد میں قدرتی طور پر اُگتا ہے، اور یہی خصوصیت اسے پھولوں کے شائقین کے لیے ایک لازمی سیاحتی مقام بناتی ہے۔
ایک اور سیاح سمرتی شرما نے اس تجربے کو ’’پریوں کی کہانی‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس قدرتی خزانے کو مناسب انداز میں پیش کیا جائے تو یہ جموں و کشمیر کی سیاحتی صنعت کی اگلی بڑی کشش بن سکتا ہے۔
ایڈونچر سیاحت سے وابستہ افراد نے بھی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اس قدرتی نعمت کو سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے اور بھدرواہ کو موسمی پھولوں کی سیاحت کے ایک اہم مرکز کے طور پر متعارف کرایا جائے۔
بھدرواہ کے ایڈونچر ٹور آرگنائزر وکاس شرما نے کہا کہ جائی ویلی اور دیگر سرسبز میدانوں میں آنے والے سیاح فاکس گلوو کے پھولوں سے بے حد متاثر ہو رہے ہیں اور بعض سیاح تو ان مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے اپنے قیام میں بھی توسیع کر دیتے ہیں۔ تاہم، ان کے بقول اب تک اس قدرتی اثاثے کی تشہیر کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں دیگر مقامات پر موسمی پھولوں کی نمائش کے لیے بھاری وسائل خرچ کیے جاتے ہیں، وہیں بھدرواہ میں ہر سال اپریل سے جون کے اختتام تک تقریباً تین ماہ کے لیے میلوں تک پھیلے فاکس گلوو کے پھول قدرتی طور پر کھلتے ہیں۔
وکاس شرما کے مطابق اگر مناسب تشہیر کی جائے تو فاکس گلوو جموں و کشمیر کی سیاحت کی ایک نئی اور منفرد شناخت بن سکتا ہے۔
بھدرواہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سنجیو شرما نے بتایا کہ بعض مطالعات سے اشارہ ملتا ہے کہ فاکس گلوو کے بیج انیسویں صدی کے اوائل میں یورپی سیاحوں کے ذریعے اس وادی میں پہنچے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر یہی وجہ ہے کہ آج یہ پھول بھدرواہ کی کٹورہ نما وادی میں اتنی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں اور اس کے قدرتی حسن میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔
سنجیو شرما نے بتایا کہ انتظامیہ اس پھولوں کی کشش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مزید سیاحوں کو راغب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اسی مقصد کے تحت رواں ماہ کے آخر تک ’’فاکس گلوو فیسٹیول‘‘ منعقد کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔










