یاترا کے پرامن اور محفوظ انعقاد کیلئےچوکسی، رابطہ کاری اور عوامی خدمت پر زور
ایجنسیز
سرینگر؍۱۹جون
سالانہ امرناتھ یاترا سے قبل کشمیر پولیس کے سربراہ‘وی کے بردی نے جمعہ کے روز فورس کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام سیکورٹی اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر مستعد رہے اور اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاری برقرار رکھے۔
۵۷ روزہ امرناتھ یاترا، جو۳ جولائی سے شروع ہونے جا رہی ہے، کی تیاریوں کے سلسلے میں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کشمیر، وی کے بردی نے زونل اور سیکٹر افسران کا ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں یاترا کے راستوں پر رابطہ کاری اور آپریشنل تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق اجلاس میں ڈی آئی جی سنٹرل کشمیر رینج سری نگر، ڈی آئی جی جنوبی کشمیر رینج اننت ناگ، ڈی آئی جی آرمڈ کشمیر، ایس ایس پی پی سی آر کشمیر، اسپیشل آفیسر ٹو آئی جی پی کشمیر، یاترا کے لیے تعینات تمام زونل اور سیکٹر افسران سمیت دیگر اعلیٰ پولیس حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران آئی جی پی کشمیر نے یاترا کے محفوظ، پُرامن اور کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے پیشہ ورانہ صلاحیت، چوکسی اور عوامی خدمت کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
بردی نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ تمام سیکورٹی اور انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور قائم شدہ سیکورٹی نظام پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
آئی جی پی کشمیر نے زونل افسران کو ہدایت دی کہ وہ اپنے ماتحت سیکٹر افسران اور جوانوں کے ساتھ باقاعدگی سے بریفنگز منعقد کریں تاکہ تمام اہلکار اپنی ذمہ داریوں، فرائض اور موجودہ سیکورٹی صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ رہیں۔
بردی نے تعیناتی کے تمام مراحل پر مسلسل نگرانی اور مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
ترجمان کے مطابق افسران کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں کام کرنے والی دیگر سیکورٹی اور متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تال میل برقرار رکھیں تاکہ معلومات کے تبادلے، مشترکہ ردِعمل اور ہم آہنگ آپریشنل اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
عوامی خدمت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے آئی جی پی کشمیر نے تمام افسران اور اہلکاروں سے کہا کہ وہ یاتریوں کی حفاظت، سہولت اور فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں۔
بردی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فرائض کی انجام دہی کے دوران عوام دوست رویہ برقرار رکھا جانا چاہیے۔
آئی جی پی نے سخت نظم و ضبط، پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور مقررہ معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پیز) کی مکمل پابندی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور تمام اہلکاروں سے کہا کہ وہ ہر وقت چوکس رہیں، اعلیٰ سطح کی آپریشنل تیاری برقرار رکھیں اور مثالی کردار کے ذریعے فورس کی نیک نامی کو مزید مستحکم کریں۔
اجلاس کے اختتام پر رابطہ کاری کے نظام اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے وضع کیے گئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ یاترا کو پُرامن اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے پاک بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ امرناتھ یاترا؍۳ جولائی سے دو روایتی راستوں، اننت ناگ کے۴۸ کلومیٹر طویل ننون،پہلگام راستے اور گاندربل کے۱۴ کلومیٹر طویل لیکن نسبتاً دشوار گزار بالتل راستے سے شروع ہوگی اور۲۸؍اگست کو رکشا بندھن کے دن اختتام پذیر ہوگی۔










