خبر یہ ہے اور یہ ایک دم تازہ خبر ہے کہ …….کہ آجکل اپنے گورے گورے بانکے چھورے ‘ وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کی نیندیں اڑ گئی ہیں ‘ حرام ہو گئی ہیں ‘ لاکھ کوششوں کے باوجود ‘ ڈاکٹروں سے مشاور ت اور ادویات کا استعمال کرنے پر بھی وزیر اعلیٰ صاحب کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ستم بالائے ستم یہ کہ ……. کہ اس دوران جب بھی ان کی آنکھ لگ جاتی ہے ‘مشکل سے کچھ ایک منٹ کیلئے لگ جاتی ہے تو انہیں ڈراؤنے سپنے آ رہے ہیں …….ان سپنوں میں کبھی انہیں مغربی بنگال اور ممتا بینر جی تو کبھی مہاراشٹرا اور ادھو ٹھاکرے دکھائی دیتا ہے ……. اور اب حال حال ہی میں انہیں ان ٹوٹے پھوٹے خوابوں میں اتر پردیش بھی دکھائی دینے لگا ہے ……. اور ہاں اکھلیش یادو بھی ۔ممتا بینر جی ‘ ادھو ٹھاکرے اور یادو کو عمرعبداللہ جس حال بے حال میں ریکھ رہے ہیں ‘ اس سے ان جناب کا حال سچ میں بے حال اور بد حال ہو گیا ہے کہ ……. کہ کبھی کبھی وزیر اعلیٰ صاحب خود کو بھی خوابوں میں اسی حال ……. بے حال او ر بدحال میں دیکھتے ہیں ۔وزیر اعلیٰ ان سب کو خواب سمجھ کر بھول جانا چاہتے ہیں ‘ لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ریاستوں ……. ایسی ریاستوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے اور وزیرا علیٰ صاحب کو ڈر ہے ……. یہ ڈر ہے کہ کہیں ان ریاستوں میں جموں کشمیر بھی شامل نہ ہو جائے ۔ بس اسی غم نے وزیرا علیٰ کی نیندوں کو حرام کر کے رکھ دیا ہے ……. لیکن ہم ان جناب کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ صاحب آپ فکر نہ کریں …….آپ گھبرائیں نہ کہ آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اس لئے نہیں ہے کہ مانا کہ ایسی ریاستوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور سو فیصد ہو رہا ہے ‘ لیکن ……. لیکن آپ کو گھبرانا نہیں ہے کہ جموں کشمیر ریاست نہیں بلکہ ایک یو ٹی ہے اور …….اور فی الحال اس فہرست میں یکے بعد دیگرے ریاستیں شامل ہو رہی ہیں‘ کوئی یوٹی نہیں ‘ بالکل بھی نہیں ۔ ہاں ہم جانتے ہیں کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے کیلئے یہ یقین دہانی کافی نہیں ہو گی اور انہیں یقینا ًراتوں کی نیند اور دن کا سکون میسر نہیں ہو گا ‘ بالکل بھی نہیں ہو گا ……. لیکن کہتے ہیں نا کہ جب شیر سامنے آتا ہے تو جو کرنا ہے وہ شیر کو ہی کرنا ہے‘سامنے کھڑا شکار کو نہیں ‘ بالکل بھی نہیں ۔ ہے نا؟




