عوامی صحت کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم
مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے کھانسی کے شربت سمیت تمام سیرپ پر مبنی ادویات کی فروخت کو ڈاکٹر کے نسخے سے مشروط کرنے کا حالیہ فیصلہ بلاشبہ عوامی صحت کے تحفظ اور ادویات کے غلط استعمال کی روک تھام کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔ حکومت نے ڈرگز رولز۱۹۴۵ کے شیڈول کے میں ترمیم کرتے ہوئے وہ استثنا ختم کر دیا ہے جس کے تحت بعض علاقوں میں کھانسی کے شربت اور دیگر مائع ادویات بغیر نسخے کے فروخت کی جا سکتی تھیں۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور اس کے دور رس اثرات ملک بھر کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔
اس فیصلے کے پس منظر میں گزشتہ چند برسوں کے وہ افسوسناک واقعات ہیں جنہوں نے ادویات کے معیار اور ان کی نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کیے۔ چند سال قبل جموں خطے کے ضلع ادھم پور میں آلودہ کھانسی کے شربت کے استعمال سے متعدد بچوں کی ہلاکت نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ بعد ازاں گیمبیا اور ازبکستان سمیت مختلف ممالک میں ہندوستان میں تیار کردہ بعض کھانسی کے شربت درجنوں بچوں کی اموات سے منسلک پائے گئے۔ ان واقعات نے یہ حقیقت آشکار کی کہ ادویات کی تیاری، معیار کی جانچ، سپلائی چین اور فروخت کے نظام میں معمولی سی غفلت بھی انسانی جانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
اگرچہ بیشتر ادویات محفوظ اور مؤثر ہوتی ہیں، لیکن جب ان کا استعمال طبی مشورے کے بغیر کیا جائے تو فوائد کے بجائے نقصانات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خود علاجی یا’سیلف میڈیکیشن‘ ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے۔ معمولی کھانسی، زکام، بخار یا جسمانی درد کی صورت میں لوگ ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بجائے براہ راست میڈیکل اسٹور کا رخ کرتے ہیں اور اپنی مرضی سے دوائیں خرید لیتے ہیں۔ اکثر صورتوں میں انہیں یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ کون سی دوا ان کے لیے موزوں ہے اور کون سی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ نتیجتاً غلط ادویات کے استعمال، مضر اثرات، ادویات پر انحصار اور بعض اوقات سنگین طبی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔
جموں و کشمیر کے تناظر میں اس فیصلے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ وادی کشمیر میں سخت اور طویل سردیوں کے باعث کھانسی، زکام اور سانس کی بیماریوں کا پھیلاؤ عام رہتا ہے۔ اسی وجہ سے کھانسی کے شربتوں کا استعمال بھی بڑی مقدار میں ہوتا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ لوگ معمولی کھانسی یا گلے کی خرابی کی صورت میں کسی ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر مختلف اقسام کے شربت خرید کر استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایک ہی بیماری کے لیے مختلف ادویات بیک وقت استعمال کی جاتی ہیں، جس سے صحت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ جموں و کشمیر گزشتہ کئی برسوں سے منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کا سامنا کر رہا ہے۔ اگرچہ کوڈین پر مبنی کھانسی کے شربت مجموعی منشیات کے مسئلے کا ایک محدود حصہ ہیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ نوجوانوں میں نشے کی شروعات بعض اوقات ایسی ہی ادویات کے غلط استعمال سے ہوتی ہے۔ آسان دستیابی اور نگرانی کے فقدان کی وجہ سے کچھ عناصر ان ادویات کا غیر قانونی استعمال بھی کرتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کا یہ اقدام منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کی ایک معاون کوشش ثابت ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی سے وادی کشمیر میں صرف کھانسی کے شربت ہی نہیں بلکہ متعدد دیگر ادویات بھی بغیر نسخے کے آسانی سے دستیاب ہیں۔ اینٹی بائیوٹکس، درد کش ادویات، نیند آور گولیاں اور مختلف اقسام کی طاقتور دوائیں اکثر میڈیکل اسٹورز سے بغیر کسی طبی ہدایت کے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس رجحان نے نہ صرف خود علاجی کے کلچر کو فروغ دیا ہے بلکہ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت جیسے عالمی مسئلے کو بھی سنگین بنایا ہے۔ جب لوگ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹکس استعمال کرتے ہیں تو جراثیم ان ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں مستقبل میں بیماریوں کا علاج مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
مرکزی حکومت کے حالیہ فیصلے سے توقع کی جا سکتی ہے کہ کھانسی کے شربتوں کی فروخت پر بہتر نگرانی قائم ہوگی، ان کے غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ استعمال میں کمی آئے گی اور عوام طبی مشورہ لینے کی طرف راغب ہوں گے۔ نسخے کی بنیاد پر فروخت کا نظام سپلائی چین کی نگرانی کو بھی مضبوط بنائے گا اور غیر قانونی فروخت یا ذخیرہ اندوزی کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگا۔
تاہم صرف قانون سازی کافی نہیں ہوتی۔ اس فیصلے کی کامیابی کا انحصار اس کے مؤثر نفاذ پر ہے۔ اگر متعلقہ ادارے، ڈرگ کنٹرول انتظامیہ اور محکمہ صحت اس قانون پر سختی سے عمل درآمد یقینی نہ بنائیں تو اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ میڈیکل اسٹور مالکان کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور نسخے کے بغیر ادویات فروخت کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی عوام میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا کا استعمال ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت صرف کھانسی کے شربتوں تک اپنی توجہ محدود نہ رکھے بلکہ دیگر نسخہ جاتی ادویات کی فروخت پر بھی مؤثر نگرانی قائم کرے۔ اگر ایک طرف کھانسی کے شربت نسخے سے مشروط ہوں اور دوسری طرف طاقتور ادویات بدستور بغیر نسخے کے دستیاب رہیں تو اصلاحات کا مقصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پورے نظام کو شفاف، ذمہ دار اور عوامی صحت کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔
بلاشبہ مرکزی حکومت کا یہ اقدام بروقت اور قابل ستائش ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف عوامی صحت کے تحفظ بلکہ ادویات کے محفوظ استعمال، خود علاجی کے رجحان کی حوصلہ شکنی اور منشیات کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، طبی ادارے، ادویات فروش اور عوام سب مل کر اس قانون کو مؤثر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکے۔





