کہتے ہیں کہ کشمیر کے سیاستدانوں اور موسم کا کوئی بھروسہ نہیں ہے …. کچھ بھی ہو سکتا ہے…. کشمیر کے سیاستدان کچھ بھی کہہ سکتے ہیں ‘ کر سکتے ہیں اور…. اور موسم کوئی بھی رنگ اور روپ اختیار کر سکتا ہے ۔کشمیر کے سیاستدانو ں کا تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں …. لیکن کشمیر کے موسم کے بارے میں ہم کچھ کہہ سکتے ہیں اور…. اور اس لئے کہہ سکتے ہیں کیونکہ موسم …. وادی کے موسم کے بارے میں ہم کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہیں اور…. اور سو فےصد ہیں۔ وہ کیا ہے کہ صبح افتاب اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ افق پر جلوہ گر ہوگا…. دن کے بارہ ایک بجے تک کھلکھلاتی دھوپ ہو گی …. پھر آہستہ آہستہ سے آسمان پر بادل اپنا ڈیرہ ڈالنا شروع کریں گے اور سہ پہر تک بادلوں …. سیاہ بادلوں نے آسمان کو اپنے نرغے میں لیا ہو گا…. اس کے بعد ہلکی ہلکی ہوائیں چلنا شروع ہوں گی ….پہلے دھیمی دھیمی اور پھرتیز…. ادھر ہوائیں چلنا شروع ہو ں گے تو اُدھر بجلی چلنا بند ہو گی…. بجلی سپلائی منقطع ہو گی…. اس کے بعد بوندا باندی کا دور چلے گا…. بیچ بیچ میں یہ رفتار پکڑ لے گی اور…. اور پھر یہ دو بارہ اپنی رفتار….دھیمی دھیمی سی رفتار پر واپس آئےگی …. اسی میں شام رات کا روپ اوڈھ لے گی اور…. اور دوسرے دن موسم اسی رنگ و روپ میں ہمارے سامنے آئےگا اور…. اور اس لئے آئےگا کیونکہ کشمیر میں گزشتہ تین مہینوں سے یہی سب کچھ ہو رہا ہے اور…. اور اسے دیکھ کر ہی تو ہم کہہ رہے ہیں کہ سیاستدانوں کا تو پتہ نہیں لیکن…. لیکن ملک کشمیر کے موسم کا ہمیں پتہ ہے کہ ….کہ یہ کب کیسا ہو گا…. سیاستدانوں کا نہیں کہ …. کہ انہوں نے کچھ کہنا اور کرنا کچھ اور …. اقتدار میں آنے سے پہلے یہ کچھ اور کہتے ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد یہ کچھ اور کرتے ہیں ۔مجال کہ کوئی ان سے پوچھے کہ جناب یہ کیا بات ہو ئی کہ …. کہ اگر کوئی ان سے ایسا پوچھنے کے جرا ت بھی کرے گا تو جواب میں ان کاکہنا ہوگا کہ …. ہر ایک بات پہ کہتے ہو کہ تو کیا ہے …. تم ہی بتاؤ کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے ۔خیر بات ہو رہی تھی وادی کے موسم کی کہ گزشتہ سال جون آگ اگل رہا تھا اور اسکولوں میں گرمائی تعطیلات کرنی پڑیں اور اب کے کہیں سرمائی تعطیلات نہ کرنی پڑیں۔ ہے نا؟




