آغا روح اللہ کی ریاستی درجہ کی بحالی کی جدوجہد کیلئے شرط
ویب ڈیسک
سرینگر؍۴جون
نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور سرینگر سے رکن پارلیمان سید آغا روح اللہ مہدی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کی جدوجہد محض نمائشی اقدامات یا وقتی سیاسی سرگرمیوں کے بجائے تسلسل، سنجیدگی اور عوامی اعتماد پر مبنی ہونی چاہیے۔
ایک مقامی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے روح اللہ مہدی نے کہا کہ سیاسی قیادت کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے اور عوام اب سوالات پوچھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا ’’بنیادی شرط یہ ہے کہ جدوجہد میں پائیداری اور تسلسل ہو۔ اگر تسلسل نہیں ہوگا تو پھر یہ صرف ڈرامہ بازی بن کر رہ جائے گی۔‘‘ روح اللہ مہدی، جن کا کہنا تھا کہ انہیں بدھ کے روز منعقدہ پارٹی اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا، نے کہا کہ ایک سنجیدہ تحریک کے لیے واضح لائحہ عمل اور کشمیر سے لے کر دہلی تک منظم رابطہ مہم ضروری ہے۔
این سی کے رکن پارلیمان نے کہا، ’’صرف ایک دن کہیں بیٹھ کر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش نہ کریں۔ ایک واضح روڈ میپ تیار کریں، پورے کشمیر تک پہنچیں اور ایک عوامی تحریک کھڑی کریں‘‘۔
مہدی نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے دفتر پر دباؤ بڑھانے اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مؤثر عوامی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
لداخ کی مثال دیتے ہوئے روح اللہ مہدی نے کہا کہ کشمیر کی سیاسی قیادت کو اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنے کا سبق سیکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’اگر سب واقعی مخلص ہیں تو تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی سیاسی شناختیں وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونا چاہیے۔ ہمیں ایک جمہوری اور پُرامن تحریک چلانی چاہیے جو اس وقت تک جاری رہے جب تک۲۰۱۹میں سلب کیے گئے حقوق بحال نہیں ہو جاتے۔‘‘
روح اللہ مہدی نے کہا کہ اگر ایک مشترکہ تحریک تشکیل دی جاتی ہے تو وہ اس کے لیے پہلا قدم اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کو بھی تیار ہیں۔
رکن پارلیمان نے کہا، ’’میں سب سے پہلے پارلیمنٹ سے استعفیٰ دوں گا۔ جب تک ہمارے آئینی حقوق بحال نہیں ہوتے، نمائندوں کا انتخاب سیاسی جماعتوں کے بجائے مشترکہ عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے ہونا چاہیے۔‘‘انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اکثر مختصر مدت کے لیے متحد ہوتی ہیں، لیکن بعد میں دوبارہ انتخابی سیاست میں مصروف ہو جاتی ہیں، جس سے اجتماعی جدوجہد کمزور پڑ جاتی ہے۔
مہدی کا کہنا تھا، ’’اگر سیاسی جماعتیں واقعی سنجیدہ ہیں تو انہیں انتخابی سیاست کو پسِ پشت ڈال کر مکمل توجہ تحریک پر مرکوز کرنی چاہیے۔ عوام اسی وقت اعتماد کریں گے جب انہیں خلوص اور مستقل مزاجی نظر آئے گی۔‘‘
قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل کانفرنس نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن نئی دہلی میں احتجاجی مظاہرہ کرے گی اور جموں و کشمیر کے ریاستی درجے اور آئینی ضمانتوں کی بحالی کا مطالبہ دہرائے گی۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں ڈچی گام نیشنل پارک میں منعقدہ ایک اجلاس میں لیا گیا تھا










