سرینگر؍۲۱ مئی
بھارت نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے ’نسل کشی سے آلودہ ریکارڈ‘ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی غیر انسانی کارروائیاں اس کی دہائیوں پر محیط اس کوشش کی عکاس ہیں جس کے تحت وہ اپنی داخلی ناکامیوں کو سرحد کے اندر اور باہر تشدد کے ذریعے بیرونی رخ دینے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
سلامتی کونسل میں ’مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ‘ کے موضوع پر سالانہ کھلی بحث کے دوران اقوامِ متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب سفیر ہریش پروتھنی نے کہا’’یہ انتہائی حیران کن بات ہے کہ پاکستان، جس کا ریکارڈ نسل کشی جیسے جرائم سے داغدار رہا ہے، بھارت کے مکمل داخلی معاملات کا حوالہ دے رہا ہے‘‘۔
پروتھنی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے نمائندے نے بحث کے دوران جموں و کشمیر کا مسئلہ اٹھایا۔
افغانستان پر پاکستان کے رواں سال کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’دنیا یہ نہیں بھولی کہ اسی سال مارچ میں رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں، جو امن، غوروفکر اور رحمت کا وقت ہوتا ہے، پاکستان نے کابل میں امید ایڈکشن ٹریٹمنٹ اسپتال پر ایک وحشیانہ فضائی حملہ کیا تھا‘‘۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے افغانستان معاون مشن کے مطابق’’اس بزدلانہ اور ناقابلِ جواز تشدد میں۲۶۹ شہری ہلاک اور مزید۱۲۲ زخمی ہوئے، حالانکہ یہ مقام کسی بھی صورت میں فوجی ہدف قرار نہیں دیا جا سکتا تھا‘‘۔
پروتھنی نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قانون کے اعلیٰ اصولوں کی بات کرنے والا پاکستان دراصل ’’اندھیرے میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر‘‘ منافقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے افغانستان معاون مشن کے مطابق یہ فضائی حملے تراویح کی نماز کے بعد کیے گئے، جب بڑی تعداد میں مریض مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق سرحد پار مسلح تشدد کے نتیجے میں۹۴ہزار سے زائد افغان شہری بے گھر ہوئے۔
بھارتی مندوب نے کہا کہ پاکستان جیسے ملک سے ایسے ’گھناؤنے جارحانہ اقدامات’’ پر حیرت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ وہ ’’اپنے ہی لوگوں پر بمباری کرتا ہے اور منظم نسل کشی میں ملوث رہا ہے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ۱۹۷۱ میں’’آپریشن سرچ لائٹ‘‘ کے دوران پاکستانی فوج نے چار لاکھ خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی منظم مہم چلائی تھی۔
واضح رہے کہ’آپریشن سرچ لائٹ‘ مشرقی پاکستان، جو اب بنگلہ دیش ہے، میں بنگلہ قوم پرست تحریک کے خلاف مارچ۱۹۷۱میں پاکستانی فوجی کارروائی کا خفیہ نام تھا۔
پروتھنی نے کہا’’ایسا غیر انسانی طرزِ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان دہائیوں سے اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے سرحد کے اندر اور باہر تشدد کا سہارا لیتا رہا ہے۔ نہ ایمان، نہ قانون اور نہ ہی اخلاقیات ‘دنیا پاکستان کے پروپیگنڈے کو بخوبی سمجھتی ہے۔
(ویب ڈیسک)
‘‘










