سری نگر؍۲۱مئی
جموں و کشمیر کے بالائی علاقوں میں تازہ برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں جمعرات کی علی الصبح بارش ہوئی، جس کے نتیجے میں درجۂ حرارت میں نمایاں کمی آئی، حکام نے بتایا۔
شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے سرحدی گریز سیکٹر، سری نگر،لیہہ قومی شاہراہ پر واقع زوجیلا پاس اور سونہ مرگ میں تازہ برفباری ریکارڈ کی گئی۔ وادی کے دیگر کئی بالائی پہاڑی سلسلے بھی برف کی سفید چادر اوڑھے نظر آئے۔
وادی کے میدانی علاقوں، بشمول گرمائی دارالحکومت سری نگر، میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا۔
حکام کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب گرج چمک کے ساتھ ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث ضلع بانڈی پورہ میں ایک سڑک کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ کئی قریبی گھروں میں پانی اور کیچڑ داخل ہوگیا۔
بارش کے سبب کئی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا اور مٹی کے تودے بہنے سے آمد و رفت بھی متاثر ہوئی۔بارش اور برفباری سے کشمیر میں گزشتہ دنوں جاری شدید گرمی جیسی صورتحال سے لوگوں کو راحت ملی۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ جمعرات اور جمعہ کو کئی مقامات پر ہلکی بارش، گرج چمک، تیز ہواؤں اور ژالہ باری کے ایک یا دو سلسلے متوقع ہیں۔
محکمے کے مطابق۲۵ مئی تک صبح کے اوقات میں موسم عمومی طور خشک رہنے کا امکان ہے، تاہم دوپہر کے بعد بعض مقامات پر مختصر بارش ہوسکتی ہے۔
اس دوران جمعرات کو شدید بارش کے باعث سری نگر-بانڈی پورہ سڑک پر دارالعلوم رحیمیہ کے نزدیک اچانک سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں پانی اور کیچڑ کئی رہائشی گھروں میں داخل ہوگیا۔ حکام کے مطابق واقعے میں دو افراد زخمی ہوئے جبکہ املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ اس واقعے میں نسو علاقے کے رہائشی غلام احمد ڈار کے دو بیٹوں، نذیر احمد ڈار اور ریاض احمد ڈار کے مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔
حکام کے مطابق دو افراد، جن میں مسکان اور ایک کمسن بچہ شامل ہیں، معمولی زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے ایک کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا جبکہ دوسرے کا ضلع اسپتال بانڈی پورہ میں علاج جاری ہے۔
مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ اگر متعلقہ محکمے بروقت کارروائی کرتے تو اس صورتحال سے بچا جا سکتا تھا۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے واقعے سے ایک روز قبل ہی میونسپل کمیٹی اور آر اینڈ بی محکمہ سے رابطہ کرکے بند نالے اور علاقے میں رساؤ والے پی ایچ ای پائپ کی شکایت کی تھی۔
مقامی شہری ظہور احمد نے کہا’’ہم کل میونسپل دفتر اور آر اینڈ بی دفتر گئے تھے اور ہاتھ جوڑ کر افسران سے گزارش کی تھی کہ بند نالے کی صفائی کی جائے اور رسنے والے پانی کو روکا جائے‘‘۔
احمد نے مزید کہا’’کارروائی کرنے کے بجائے دونوں محکمے ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہے۔ ایک نے کہا یہ میونسپلٹی کی غلطی ہے جبکہ دوسرے نے اسے آر اینڈ بی کی ذمہ داری قرار دیا‘‘۔
رہائشیوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ زیر تعمیر نالے کو پرانے نالے کے مقابلے میں جان بوجھ کر تنگ بنایا گیا، جس کی وجہ سے پانی اُبل کر باہر آگیا۔
مقامی لوگوں نے کہا’’پرانا نالہ کافی چوڑا تھا۔ آج تباہی سب کے سامنے ہے‘‘۔
مقامی افراد نے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری معاوضے کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑک کی جلد مرمت اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مضبوط حفاظتی دیوار تعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
ادھر تحصیلدار بانڈی پورہ نے موقع کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ نے بتایا کہ مختلف ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں اور بحالی کا کام جاری ہے۔










