ریاستی درجے کی بحالی وقت آنے پر ہوگی:درخشاں اندرابی
ندائے مشرق خبر
سرینگر؍۲۰مئی
اپوزیشن بی جے پی نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے بدعنوانی اور بدانتظامی کی سیاست کے باعث برسراقتدار نیشنل کانفرنس (این سی) پر اپنا اعتماد کھو دیا ہے۔
پارٹی کے مطابق یہاں ایک عظیم الشان شمولیتی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں این سی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے سینکڑوں کارکنان، نوجوان اور سرکردہ شخصیات نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔
بی جے پی جموں و کشمیر کے جنرل سیکریٹری (تنظیم) اشوک کول نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے عوام، خصوصاً نوجوانوں نے بدعنوانی، بدانتظامی اور عام لوگوں کی فلاح و ترقی کیلئے کام نہ کرنے کی وجہ سے برسراقتدار نیشنل کانفرنس پر اعتماد کھو دیا ہے۔‘‘
پارٹی کے مطابق بی جے پی میں شامل ہونے والوں میں دانش ریاض ڈار (این سی)، شبیر لنگو، محمد یوسف زرگر، بھارتیہ کسان سماج جموں و کشمیر کے نائب صدر طارق صوفی اور سنور چودھری شامل ہیں۔
نئے شامل ہونے والوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اشوک کول نے کہا کہ کشمیر وادی میں بی جے پی کیلئے عوامی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے جو وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں اور وژن پر عوام کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
کول نے کہا، ’’بی جے پی ایک ایسی واحد جماعت بن کر ابھری ہے جو شفافیت، ترقی، اچھی حکمرانی اور معاشرے کے تمام طبقات کیلئے مساوی مواقع فراہم کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔ کشمیر بھر میں بی جے پی کیلئے بڑھتی حمایت وزیر اعظم مودی کی پالیسیوں اور وژن پر عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔‘‘
بی جے پی لیڈر نے کہا کہ کشمیر کے لوگ بی جے پی کے ساتھ وابستہ ہو رہے ہیں اور پارٹی وادی میں اس طرح کے شمولیتی پروگرام جاری رکھے گی۔
کول نے کہا، ’’آج ہزاروں افراد نے پروگرام میں شرکت کی اور سینکڑوں نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بی جے پی کو قبول کیا جا رہا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’کچھ عرصہ پہلے لوگ بی جے پی کے ساتھ وابستہ ہونے سے خوفزدہ رہتے تھے، لیکن اب لوگ میڈیا کے سامنے بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں، جو ایک بڑی بات ہے۔‘‘
پارٹی میں شامل ہونے والوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے بی جے پی رہنما نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا، ’’یہ ظاہر کرتا ہے کہ جموں و کشمیر خصوصاً کشمیر وادی میں بی جے پی مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔‘‘
اس دوران جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی سینئر لیڈر ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے بدھ کے روز نیشنل کانفرنس (این سی) پر الزام عائد کیا کہ دو سال قبل ’’بہت بڑا مینڈیٹ‘‘ حاصل کرنے کے باوجود اس نے عوام کو دھوکہ دیا، جبکہ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ’’وقت آنے پر‘‘ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کر دیا جائے گا۔
ایک مقامی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اندرابی نے الزام لگایا کہ این سی نے ووٹ حاصل کرنے کیلئے وعدے کیے لیکن انہیں پورا کرنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا، ’’انہوں نے لوگوں کو دھوکہ دیا۔ آج آپ وہ دھوکہ دیکھ رہے ہیں… آج ہر کوئی بی جے پی کا جھنڈا تھامنا چاہتا ہے۔‘‘
اندرابی نے دعویٰ کیا کہ این سی کے بیشتر زمینی سطح کے کارکن اب بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں اور اس تبدیلی کا سہرا وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کو دیا۔
ریاستی درجے کے بارے میں ڈاکٹر اندرابی نے کہا، ’’ہمارے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں ریاستی درجے کے بارے میں جو کہا ہے، ان شاء اللہ وہ ہوگا، لیکن جب وقت آئے گا۔‘‘
موصوفہ نے این سی، پی ڈی پی اور کانگریس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ جماعتیں جموں و کشمیر کے عوام کو ’’ان کے حقوق سے محروم‘‘ رکھنا چاہتی ہیں۔
وقف سربراہ نے مزید کہا، ’’یہ لوگ خود مرکز جاتے ہیں لیکن یہاں کے لوگوں کو محروم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج ہر کوئی بی جے پی کے ساتھ چلنا چاہتا ہے، ترقی اور خوشحالی کے ساتھ چلنا چاہتا ہے۔‘‘










