ایجنسیز
سرینگر؍۲۰ مئی
پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے بدھ کے روز کہا کہ جموں میں انہدامی کارروائی کے دوران فاریسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے) کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے دیا گیا حکم محض ’’چشم پوشی‘‘ ہے۔
لون نے کہا کہ یہ تحقیقات اسی صورت میں معنی رکھتی ہیں جب متاثرہ افراد کے فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت دعوے زیر التوا ہوں۔
ہندواڑہ کے ممبراسمبلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کی جانب سے جموں میں انہدامی کارروائی کے دوران فاریسٹ رائٹس ایکٹ کی کسی بھی خلاف ورزی کی تحقیقات اور رپورٹ طلب کرنے کا اقدام محض ایک چشم پوشی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جموں و کشمیر میں شہری ہلاکتوں پر عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے ہزاروں مجسٹریل تحقیقات کے احکامات جاری کئے گئے تھے۔‘‘
لون نے کہا کہ حکومت کو یہ معلوم کرنے میں۱۰ منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگتا کہ آیا ایف آر اے کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا، ’’ایسی بات کیلئے سات دن کیوں درکار ہیں جس کا تعین۱۰ منٹ میں ہو سکتا تھا؟ میری سمجھ کے مطابق اگر ان افراد کے انفرادی یا اجتماعی حقوق سے متعلق دعوے زیر التوا ہوں تو مکانات کا انہدام ایف آر اے کی خلاف ورزی شمار ہوگا۔‘‘
فاریسٹ رائٹس ایکٹ کی دفعہ۴ کی ذیلی دفعہ(۵)کا حوالہ دیتے ہوئے لون نے کہا کہ اگر درج فہرست قبائل یا دیگر روایتی جنگلاتی باشندے جنگلاتی زمین پر رہائش پذیر ہیں یا کھیتی باڑی کر رہے ہیں تو حکومت انہیں بے دخل نہیں کر سکتی اور نہ ہی ان کے مکانات منہدم کر سکتی ہے جب تک کہ حقوق کی شناخت اور تصدیق کا عمل مکمل نہ ہو جائے اور ایف آر اے کے دعوے قانونی عمل کے تحت مکمل طور پر مسترد نہ کر دیے جائیں۔
لون نے مزید کہا، ’’یہ ایک اور انکار اور ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش ہے۔ حیران نہ ہوں اگر اسمبلی میں حکومت خود ہی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے پر اپنی پیٹھ تھپتھپائے اور انہدامی کارروائی کا دفاع بھی کرے۔ اس حکومت کے حوالے سے اب مجھے کسی چیز پر حیرت نہیں ہوتی۔‘‘
واضح رہے کہ پولیس اور محکمہ جنگلات نے منگل کے روز جموں شہر کے مضافاتی علاقے میں تجاوزات مخالف مہم چلاتے ہوئے زیریں شوالک رینج کے رایکہ بندی جنگلاتی علاقے میں تقریباً۶۰کنال قیمتی جنگلاتی اراضی واگزار کرانے کیلئے۲۰سے۳۰ ڈھانچوں کو منہدم کیا تھا۔
متاثرہ خاندانوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے ’’غیر منصفانہ‘‘ قرار دیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ انہدامی مہم بغیر کسی پیشگی نوٹس کے چلائی گئی۔ (ایجنسیاں)










