ایجنسیز
سرینگر؍۱۴مئی
جموں کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر‘ سنیل کمار شرما نے جمعرات کو کہا کہ نیشنل کانفرنس اسپیکر کے ’’غیر منصفانہ اور جانبدارانہ‘‘ اقدامات کو درست ثابت کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کمیٹیوں کی چیئرمین شپ پارلیمانی روایات کے مطابق طے کی جاتی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے اس دعوے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ پارلیمنٹ میں۶۲ء۵ فیصد کمیٹی چیئرمین شپ حکمران جماعت کو اور۳۷ء۵فیصد اپوزیشن کو دی گئی ہیں، سنیل شرما نے کہا کہ این سی۲۰۲۴ میں کمیٹی سربراہوں کی تقرری کا حوالہ تو دے رہی ہے لیکن حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اسپیکر کا دفاع کیا جا سکے۔
ایل او پی نے کہا، ’’نیشنل کانفرنس جان بوجھ کر اس حقیقت کو چھپا رہی ہے کہ۶۲ء۵ فیصد محکمہ جاتی قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ صرف بی جے پی کو نہیں بلکہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو دی گئی تھیں، یعنی۲۴میں سے۱۵ کمیٹیاں۔ جبکہ اپوزیشن جماعتوں کو۲۴ میں سے۹کمیٹیوں کی سربراہی ملی تھی۔ اگر یہی تناسب جموں و کشمیر اسمبلی میں لاگو کیا جائے تو تین کمیٹی چیئرمین شپ بی جے پی، پانچ حکمران اتحاد اور ایک آزاد ارکان یا کسی دوسری اپوزیشن جماعت کو ملنی چاہیے۔‘‘
شرما نے الزام لگایا کہ اسپیکر نے اسمبلی کی۸۹ فیصد کمیٹیوں کی چیئرمین شپ حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں کے حوالے کر دی ہے، جو ایوان میں جماعتوں کی نمائندگی کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر کو پارلیمنٹ میں کمیٹی سربراہوں کی تقرری کے طریقۂ کار کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
بی جے پی لیڈر کا کہنا تھا، ’’پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی ہمیشہ اپوزیشن جماعت کے پاس ہوتی ہے اور جموں و کشمیر میں بھی ایسا ہی کیا گیا، لیکن چھ غیر مالیاتی کمیٹیوں کے سربراہ مقرر کرتے وقت اپوزیشن کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں ’’کمیٹی آن گورنمنٹ ایشورنسز‘‘ کی سربراہی بھی اس وقت اپوزیشن کے پاس ہے۔










