۲۰۱۷ کی ایکسائز پالیسی کس حکومت نے بنائی تھی ‘این سی کا سوال
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۵مئی
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے جمعہ کو شراب فروخت پر پابندی کے مطالبے کو لے کر بی جے پی کے احتجاجی مارچ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں نافذ کی گئی سابقہ شراب پالیسیوں پر بی جے پی کے کردار پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی کارکنوں نے سرینگر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی رہائش گاہ کی جانب احتجاجی مارچ کیا، جس دوران مظاہرین نے جموں و کشمیر میں شراب کی فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی کے حق میں نعرے بازی کی۔
احتجاج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل پر ایک بیان جاری کیا۔
پارٹی نے کہا، ’’ہم ان۲۰ بی جے پی کارکنوں کے جذبات کا مکمل احترام کرتے ہیں۔‘‘
نیشنل کانفرنس نے مزید سوال اٹھایا کہ۲۰۱۷ کی ایکسائز پالیسی، جس میں میونسپل وارڈز اور تحصیلوں کو غیر محدود شراب فروخت کے علاقوں کی بنیاد قرار دیا گیا تھا، اُس وقت جموں و کشمیر میں کس کی حکومت تھی۔
پارٹی نے۲۰۲۲کے اُس فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت گروسری اور ڈپارٹمنٹل اسٹورز میں شراب فروخت کی اجازت دی گئی تھی، اور پوچھا کہ اُس وقت اقتدار میں کون سی انتظامیہ تھی۔
اس سے پہلے جموں کشمیر میں شراب پر مکمل پابندی کے مطالبے کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے احتجاجی مارچ کو پولیس نے جمعہ کے روز روک دیا اور بعض پارٹی رہنماؤں کو مختصر طور پر حراست میں لیا گیا۔
حکام کے مطابق بی جے پی کے درجنوں رہنما اور کارکن رام منشی باغ پارک کے قریب جمع ہوئے اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی گپکار رہائش گاہ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے جموں و کشمیر میں شراب پر مکمل پابندی عائد کرنے کے حق میں نعرے بازی کی۔
تاہم پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا اور وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے باہر بعض رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
حکام نے بتایا کہ بعد ازاں پولیس نے بی جے پی کارکنوں کو پُرامن طریقے سے منتشر کر دیا۔ (ایجنسیاں)










