ایجنسیز
جموں؍۱۳مئی
جموں کے سرمائی دارالحکومت کے اطراف شوالک پہاڑی سلسلے میں جنگلاتی اور سرکاری اراضی پر مبینہ بڑے پیمانے پر قبضوں کے خلاف بدھ کے روز جموں میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
باہو حلقہ سے بی جے پی رکن اسمبلی وکرم رندھاوا کی قیادت میں سینکڑوں مظاہرین نے ’جموں کے جنگلات بچاؤ‘ اور ’جموں کی زمینوں پر قبضہ بند کرو‘ جیسے نعروں والے پلے کارڈ اٹھا کر سدھرا روڈ پر ریلی نکالی اور بعد میں دھرنا دیا۔
مظاہرین نے ٹائر نذرِ آتش کیے اور غیر قانونی قابضین کو فوری طور پر بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے ’نشہ مکت ابھیان‘کی طرز پر ’تجاوزات سے پاک جموں‘ مہم شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
احتجاجیوں نے مبینہ ’بیرونی زمین مافیا‘ کے خلاف نعرے بازی کی اور خبردار کیا کہ اگر سرکاری اراضی پر قبضے نہ روکے گئے تو ایک بڑی عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔احتجاج کے باعث سدھرا بائی پاس دو گھنٹے سے زائد وقت تک بند رہا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وکرم رندھاوا نے کہا’’آج ہم نے ایک علامتی احتجاج کیا تاکہ حکومت کو ان تجاوزات کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے جو غیر ڈوگرا عناصر کی جانب سے خطے کی آبادیاتی ساخت تبدیل کرنے کے منصوبے کے تحت کی جا رہی ہیں، جبکہ حکام مبینہ طور پر ان جنگلاتی علاقوں میں پانی، بجلی، سڑکیں اور نکاسیٔ آب جیسی سہولیات فراہم کر رہے ہیں‘‘۔
بی جے پی ممبر اسمبلی نے الزام لگایا کہ بٹھنڈی، سنجواں، بجالتہ، سدھرا، رائیکا، نروال اور باہو جیسے علاقوں میں جنگلاتی زمین، سرکاری اراضی اور جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی املاک پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔
رندھاوا نے کہا’’ہزاروں کنال سرکاری اور جنگلاتی اراضی پر جموں سے باہر کے لوگوں نے قبضہ جما لیا ہے۔ انہیں تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں دیگر علاقوں میں بھی خاموشی سے تجاوزات بڑھ رہی ہیں‘‘۔
بی جے لیڈر نے دعویٰ کیا کہ کشمیر سے آئے لوگ جموں میں قبضہ شدہ زمینوں پر آباد ہوئے ہیں، جبکہ’’جموں کے کسی ڈوگرا نے کشمیر میں زمین پر قبضہ کرکے وہاں سکونت اختیار نہیں کی‘‘۔انہوں نے کہا’’میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ قابضین کی فہرستیں دیکھیں اور معلوم کریں کہ وہ کون لوگ ہیں۔ ہم ڈوگرا ثقافت، شناخت، ورثے اور جموں کے جنگلات کو تباہ نہیں ہونے دیں گے‘‘۔
بی جے پی رکن اسمبلی نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ جے ڈی اے اور دیگر سرکاری زمینوں پر مبینہ غیر قانونی قبضوں کے حوالے سے بار بار کی گئی تنبیہات کو نظر انداز کر رہی ہے۔
رندھاوا نے کہا’’ہمیں کسی کے قانونی طور پر زمین خرید کر جموں میں آباد ہونے پر اعتراض نہیں، لیکن غیر قانونی قبضے ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ، جنگلاتی حکام اور جے ڈی اے زمین مافیا کے خلاف کارروائی کریں‘‘۔
رندھاوا نے وزیر اعلیٰ اور حکمران جماعت پر ’جموں کی ڈوگرا شناخت کو کمزور کرنے‘ کا الزام بھی عائد کیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں ضلع میں ایک لاکھ ۴۵ہزار۴۸۷ کنال اور۶مرلہ سرکاری زمین پر قبضہ کیا گیا ہے، جبکہ سری نگر میں یہ اعداد و شمار۱۳۳۶۲ء۹۵ کنال ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف جموں ضلع میں سری نگر کے مقابلے میں دس گنا زیادہ سرکاری زمین پر قبضہ ہے۔
اپریل میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی کو بتایا تھا کہ جے ڈی اے کی۱۶ہزار کنال سے زائد زمین پر قبضہ ہے اور قابضین کو مرحلہ وار بے دخل کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔
بی جے پی رکن اسمبلی نریندر سنگھ رینا کے سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ جے ڈی اے کے پاس۸۰ہزار۹۷۶کنال اور۱۰مرلہ اراضی موجود ہے، جس میں سے۱۶ہزار۱۲۷کنال اور۱۰مرلہ زمین غیر قانونی قبضے میں ہے۔
جموں و کشمیر میں ایک کنال۲۰مرلہ کے برابر ہوتا ہے اور اس کا رقبہ تقریباً۵۴۴۵مربع فٹ ہوتا ہے، جبکہ ایک مرلہ تقریباً۲۷۲مربع فٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔










