ملک بھر میں تلاشی کارروائیاں جاری‘مزید گرفتاریوں کا امکان
ایجنسیز
نئی دہلی؍۱۳مئی
سی بی آئی نے نیٹ یو جی پیپر لیک معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ملک بھر میں مختلف مقامات پر تلاشی کارروائیاں جاری ہیں، کیونکہ ایجنسی نے اپنی تحقیقات میں تیزی لا دی ہے۔ حکام نے بدھ کے روز یہ جانکاری دی۔
گرفتار کیے گئے افراد میں جے پور کے تین افراد منگی لال بیوال، وکاس بیوال اور دنیش بیوال شامل ہیں، جبکہ دیگر دو ملزمان میں گروگرام کے یش یادو اور ناسک کے شبھم کھیرنار شامل ہیں۔ حکام کے مطابق کئی دیگر مشتبہ افراد سے مختلف شہروں میں پوچھ گچھ جاری ہے اور انہیں بعد میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
شبھم کھیرنار(۳۰) کو مزید پوچھ گچھ کے لیے دہلی لایا جا رہا ہے، کیونکہ ایک مقامی مجسٹریٹ عدالت نے سی بی آئی کو اس کا ٹرانزٹ ریمانڈ دے دیا ہے۔ اسے منگل کے روز راجستھان پولیس کی درخواست پر ناسک پولیس نے حراست میں لیا تھا۔
منگل کو تحقیقات اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد سی بی آئی ملک بھر میں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں سامنے آنے والی نئی معلومات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔
سی بی آئی نے ملزمان سے متعدد ڈیجیٹل آلات، جن میں موبائل فون اور لیپ ٹاپ شامل ہیں، ضبط کیے ہیں۔ ان آلات کو فرانزک جانچ کے لیے بھیجا جائے گا تاکہ ان میسجنگ ایپلی کیشنز کا سراغ لگایا جا سکے جن کے ذریعے مبینہ طور پر امتحانی پرچے پھیلائے گئے۔
ایجنسی ذرائع کے مطابق، سی بی آئی راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ(ایس او جی)کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے، جس نے اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کی تھیں۔
ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا، ’’سی بی آئی مبینہ پیپر لیک سے متعلق تمام سراغوں پر وسیع تکنیکی اور فرانزک تجزیے کے ذریعے کام کر رہی ہے اور اس معاملے میں جامع، غیر جانبدارانہ اور پیشہ ورانہ تحقیقات کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے‘‘۔
بدھ کے روز سی بی آئی کی ایک ٹیم نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے ہیڈکوارٹر کا بھی دورہ کیا اور نیٹ یو جی امتحان سے متعلق دستاویزات حاصل کیں، جو پیپر لیک کے الزامات کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق ٹیم نے امتحانی عمل میں شامل افسران سے بھی بات چیت کی۔
راجستھان سے ملزمان کی گرفتاری کے بعد یہ معاملہ سیاسی تنازعہ بھی بن گیا۔ کانگریس رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ایک ملزم کو بی جے پی سے جوڑا، جبکہ بی جے پی نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی۔
اشوک گہلوت نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزم دنیش بیوال بھارتیہ جنتا پارٹی کا کارکن ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہندی میں ایک پوسٹ کرتے ہوئے کہا، ’’نیٹ پیپر لیک معاملے میں گرفتار دنیش بیوال بھارتیہ جنتا پارٹی کا عہدیدار ہے‘‘۔
گہلوت نے ایک پوسٹر کی تصویر بھی شیئر کی جس میں بیوال کو بھارتیہ جنتا یوا مورچہ جے پور دیہی کا ضلع سیکریٹری بتایا گیا تھا۔ تاہم، بی جے پی کے ریاستی نائب صدر مکیش دادھیچ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بیوال کا پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں ہے۔
دنیش بیوال جے پور کے جاموا رام گڑھ علاقے کا رہنے والا ہے۔ اس کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اسے اور اس کے بھائی کو پولیس نے حراست میں لیا ہے اور دونوں بے قصور ہیں، جبکہ انہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔
ایس او جی نے سیکر، جے پور دیہی (بشمول جاموا رام گڑھ)، الور اور دیگر ملحقہ علاقوں سے کئی افراد کو حراست میں لیا ہے۔سی بی آئی نے نیٹ یو جی مبینہ پیپر لیک کیس کی تحقیقات کے لیے ایف آئی آر درج کرنے کے ساتھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ اس معاملے کے بعد۳مئی کو منعقد ہونے والا امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا۔
نیٹ-یو جی۲۰۲۶کا امتحان بھارت کے۵۵۱ شہروں اور بیرونِ ملک۱۴مراکز پر منعقد کیا گیا تھا۔ تقریباً۲۳ لاکھ امیدواروں نے اس امتحان کے لیے رجسٹریشن کرائی تھی، جسے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے ملک بھر میں منعقد کیا تھا۔
این ٹی اے کے مطابق امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق معلومات۷مئی کی شام کو موصول ہوئیں، یعنی امتحان کے چار دن بعد۔ این ٹی اے نے کہا کہ اگلی صبح ان اطلاعات کو “آزادانہ تصدیق اور ضروری کارروائی” کے لیے مرکزی ایجنسیوں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ کیمسٹری کا ایک ’گَیس پیپر‘، جو مبینہ طور پر امتحان سے قبل طلبا میں گردش کر رہا تھا، تقریباً۴۱۰سوالات پر مشتمل تھا، جن میں سے قریب۱۲۰سوالات اصل امتحان میں بھی شامل تھے۔










