ایجنسیز
جموں؍۱۳مئی
جموں و کشمیر پولیس نے بدھ کے روز دو افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے کشتواڑ ضلع میں سرگرم دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد کے سیف اللہ گروپ کے غیر ملکی دہشت گردوں کو پناہ اور لاجسٹک مدد فراہم کی۔ حکام نے یہ جانکاری دی۔
گرفتار شدگان کی شناخت مشکور احمد اور منیر احمد کے طور پر ہوئی ہے۔ مشکور احمد بیغ پورہ سنگھ پورہ کا رہائشی اور سرکاری اسکول میں استاد تھا، جبکہ منیر احمد بندیاں نائدگام کا رہنے والا ہے۔
یہ گرفتاریاں خطے میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے حکام کی جاری کارروائیوں کا حصہ ہیں۔
۲۲فروری کو فوج نے چھاترو علاقے میں جیشِ محمد کے سیف اللہ گروپ سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ یہ گروپ کشتواڑ-ڈوڈہ کے بالائی علاقوں میں سرگرم تھا۔
پولیس ترجمان نے کہا’’ملک دشمن عناصر کے خلاف ایک فیصلہ کن کارروائی میں پولیس نے سنگھ پورہ-چھاترو علاقے میں دہشت گردوں کو پناہ اور مدد فراہم کرنے والے اہم ملزمان کو گرفتار کیا ہے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں مارچ میں چھاترو پولیس اسٹیشن میں درج ایک مقدمے کی تحقیقات کے دوران عمل میں لائی گئیں۔
کشتواڑ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نریش کمار نے کہا کہ تحقیقات کے دوران مشکور احمد کو گرفتار کیا گیا، جو محکمہ اسکولی تعلیم میں بطور استاد کام کر رہا تھا۔
کمار نے بتایا کہ ملزم سنگھ پورہ، چھاترو علاقے میں غیر ملکی دہشت گردوں کے لیے ایک خفیہ ٹھکانہ فراہم کرنے میں براہِ راست ملوث تھا اور اس نے علاقے میں سرگرم دہشت گردوں کو لاجسٹک مدد فراہم کی۔
ایس ایس پی نے مزید کہا کہ منیر احمد کو بھی اسی نوعیت کے جرائم میں پہلے گرفتار کیا جا چکا ہے۔پولیس کے مطابق ضلع میں دہشت گرد سرگرمیوں کی حمایت کرنے والے وسیع تر نیٹ ورک کی نشاندہی اور اسے ختم کرنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس نے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے معاونین کے خلاف اپنی ’صفر برداشت پالیسی‘کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
سیکورٹی فورسز کے مطابق رواں سال فروری میں کشتواڑ-ادھم پور علاقے میں پاکستان کی حمایت یافتہ چھ دہشت گرد مارے گئے تھے۔ (ایجنسیاں)










