نئی دہلی، 08 مئی (یو این آئی) دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ دہلی حکومت دارالحکومت کے تمام سرکاری اسکولوں کا جامع ‘اسٹرکچرل آڈٹ’ (ساختی معائنہ) کرائے گی۔
محترمہ گپتا نے آج روپ نگر نمبر چار میں واقع راجکیہ سروودے ودیالیہ کا اچانک معائنہ کر کے اسکول کے احاطے کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران وزیر اعلیٰ نے مختلف کلاسوں میں جا کر طلباء سے براہِ راست بات چیت کی اور ان سے پانی کے انتظام، فائر سیفٹی، بیت الخلا کی حالت، صاف صفائی، گرمی سے نجات کے انتظامات، اساتذہ کی دستیابی اور تعلیمی نظام کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں۔ طلباء نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ اسکول میں پینے کے صاف پانی کا مناسب انتظام نہیں ہے۔ واٹر کولر اور آر او سسٹم طویل عرصے سے خراب پڑے ہیں، جس کی وجہ سے زیادہ تر طلباء براہِ راست نل کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو یہ بھی بتایا کہ بیت الخلا کی حالت انتہائی خراب ہے، کئی ٹوائلٹس کے دروازے ٹوٹے ہوئے ہیں اور وہاں باقاعدگی سے صفائی اور پانی کی فراہمی نہیں ہوتی۔
وزیر اعلیٰ نے معائنے کے دوران پایا کہ اسکول کا فائر سیفٹی سسٹم بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ ان بے ضابطگیوں کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے حکام کی سخت سرزنش کی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی حفاظت سے متعلق کسی بھی قسم کی لاپرواہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اسکول کے تمام حفاظتی انتظامات میں فوری طور پر بہتری لائی جائے۔ طلباء نے وزیر اعلیٰ کے سامنے اساتذہ کی کمی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ اسکول تعلیم کے مندر ہوتے ہیں۔ تعلیمی نظام میں حساسیت، جوابدہی اور طلباء کی حقیقی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ اسی مقصد کے لیے تمام سرکاری اسکولوں کا جامع اسٹرکچرل آڈٹ کرایا جائے گا تاکہ اسکولوں میں موجود بنیادی کمیوں اور ضروری سہولیات کی اصل صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی کے تقریباً 700 اسکولوں میں نئی عمارتوں اور بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کی ضرورت ہے، کیونکہ کئی اسکولوں کی عمارتیں 40 سے 50 سال پرانی اور بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ اس آڈٹ کے ذریعے عمارتوں کی مضبوطی، پینے کے پانی، بیت الخلا، صفائی اور فائر سیفٹی جیسی بنیادی سہولیات کی جانچ کی جائے گی، جس کے لیے متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے سابقہ حکومت کے تعلیمی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں تعلیمی ماڈل کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی، لیکن زمینی حقیقت اب سرکاری اسکولوں کی حالت دیکھ کر سامنے آ رہی ہے۔ اگر سابقہ حکومت نے تعلیمی نظام کو واقعی مضبوط کیا ہوتا تو آج بچوں کو بنیادی سہولیات کے لیے شکایت نہ کرنی پڑتی۔ صرف اشتہارات اور تشہیر سے نظام بہتر نہیں بنتا، بلکہ اسکولوں میں حقیقی سہولیات، محفوظ ماحول اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانا ضروری ہے۔










