نئی دہلی، 07 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے رام مندر کے چڑھاوا میں چوری کو کروڑوں عقیدت مندوں کی عقیدت کے ساتھ وشواس گھات (دھوکہ) قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں پردہ پوشی کرنے کے بجائے شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کو تحلیل کر کے سنتوں اور دھرم گرؤوں کو شامل کرتے ہوئے نیا ٹرسٹ بنایا جائے اور پورے چندے کا حساب عام کر کے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جامع جانچ کی جائے۔
کانگریس کے سینئر رہنما اور راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اتر پردیش حکومت کی ایس آئی ٹی جانچ پر عوام کو بھروسہ نہیں ہے اس لیے ایک خود مختار ایجنسی سے سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں جانچ کرائی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ رام مندر کے لیے ملنے والے عطیات کا پورا حساب عام کر کے وزیر اعظم نریندر مودی اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرسٹ کی میٹنگ میں اس پورے معاملے کو صرف ‘لاپرواہی’ بتایا جا رہا ہے تو پھر ایف آئی آر، ایس آئی ٹی جانچ اور گرفتاریوں کی ضرورت کیوں پڑی۔ ان کا الزام تھا کہ ٹرسٹ اور بی جے پی حکومت پورے معاملے میں شفاف جواب دینے کے بجائے پردہ پوشی کر رہے ہیں اور اصل قصورواروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مسٹر مودی نے رام مندر کی تعمیر اور اس سے جڑے تمام کام کا سہرا لیا ہے تو اس تنازع پر بھی انہیں جوابدہی نبھانی چاہیے۔
مسٹر گہلوت نے کہا کہ سابق وزیر اعظم پی وی نرسہما راؤ کے وقت جس ٹرسٹ کا تصور کیا گیا تھا، اس میں سادھو سنتوں اور دھرم گرؤوں کی شرکت تھی لیکن موجودہ ٹرسٹ میں نہ تو ان کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی کسی کی جوابدہی طے ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی، آر ایس ایس اور وی ایچ پی نے یکطرفہ طور پر ٹرسٹ بنایا اور مبینہ چڑھاوا چوری کی معلومات پہلے سے ہونے کے باوجود معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ہر شہری نے مندر میں عقیدت کے ساتھ اپنا تعاون دیا۔ انہوں نے بھی دیا اور کہا کہ جب وہ وزیر اعلیٰ تھے تو چمپت رائے ان سے ملے اور مندر کی تعمیر کے لیے پتھر نکالنے کی خاطر جنگلاتی زمین فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر ان کی حکومت نے فوری تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کونے کونے سے لوگوں نے عقیدت کے ساتھ چندہ اور چڑھاوا دیا ہے اس لیے پورے معاملے کو صرف ‘لاپرواہی’ بتانا کروڑوں عقیدت مندوں کی عقیدت کی توہین ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ گاؤں کے چھوٹے سے مندر کی تعمیر میں بھی دھرم گرؤوں اور سنتوں کا اہم کردار ہوتا ہے لیکن رام مندر جیسے قومی عقیدت کے مرکز میں ان کے کردار کو نظرانداز کر کے صرف مسٹر مودی کے کردار کو اہمیت دی گئی۔ رام مندر ٹرسٹ ایک طرح سے حکومت کا ٹرسٹ بن گیا ہے جبکہ اس میں شنکراچاریوں، دھرم گرؤوں اور سنتوں کو اہم مقام ملنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ بدری ناتھ مندر، مہاکالیشور مندر، ویشنو دیوی مندر اور تروملا وینکٹیشور جیسے بڑے مندروں میں بھی بھاری چڑھاوا آتا ہے لیکن ایودھیا کے معاملے میں شفافیت نہیں برتی گئی اور سوال پوچھنے والوں کو جواب نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی اپنی "چال، چرتر اور چہرے” کا دعویٰ کرتی رہی ہے لیکن اس واقعے نے اس کا حقیقی چہرہ ملک کے سامنے لا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایف آئی آر درج نہیں کی گئی اور بعد میں اتر پردیش کے افسران والی ایس آئی ٹی تشکیل دے کر معاملے کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر کے لیے چندہ دینے والوں اور حاصل شدہ چندے کی پوری تفصیلات عام کی جانی چاہئیں اور موجودہ ٹرسٹ کو تحلیل کر کے شنکراچاریوں، دھرم گرؤوں اور سنتوں کی شرکت والا نیا ٹرسٹ بنایا جانا چاہیے، تب ہی کروڑوں عقیدت مندوں کا بھروسہ بحال ہو سکے گا۔










