’یہ بے بنیاد باتیں ہیں ‘نیشنل کانفرنس کاایسا کوئی ایم ایل اے نہیں جو پارٹی چھوڑ کر بی جے پی کی حمایت کرے گا‘
اگر کچھ ایم ایل ایز پارٹی چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہوتے تو کیا میں ان تقریبات میں شرکت کر رہا ہوتا:وزیر اعلیٰ
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۶مئی
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز پی ڈی پی کے رکن پارلیمان وحید پرہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ نیشنل کانفرنس (این سی) کے اراکین اسمبلی پارٹی چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔انہوں نے اسے’بے بنیاد‘ قرار دیا۔
شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے ٹنگمرگ میں ایک تقریب کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے پی ڈی پی پر افواہیں پھیلانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ این سی کا کوئی بھی رکن اسمبلی پارٹی نہیں چھوڑے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’کیا آپ کو لگتا ہے کہ اگر کچھ ایم ایل ایز پارٹی چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہوتے تو میں ان تقریبات میں شرکت کر رہا ہوتا؟ یہ سب بے بنیاد خبریں ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی کی مدد کی۔ یہ صرف ہم نہیں کہہ رہے، یہ آر ٹی آئی سے سامنے آیا ہے۔ نیشنل کانفرنس میں ایسا کوئی ایم ایل اے نہیں جو پارٹی چھوڑ کر بی جے پی کی حمایت کرے گا‘‘۔
عمرعبداللہ ایک آر ٹی آئی انکشاف کا حوالہ دے رہے تھے، جس میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ سال کے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے پی ڈی پی نے چیف ایجنٹ مقرر نہیں کیا تھا، جس کے نتیجے میں مطلوبہ تعداد نہ ہونے کے باوجود جموں و کشمیر بی جے پی صدر ست شرما ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے۔
اس سے قبل وحید پرہ نے ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ نیشنل کانفرنس کے اندر اختلافات جنم لے رہے ہیں اور اس کے کچھ اراکین اسمبلی پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے رابطے میں ہیں۔
اپنی اسی پوسٹ میں پرہ نے جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے شاپیاں میں قائم معروف مذہبی و جدید تعلیمی ادارہ جامعہ سراج العلوم کو یو اے پی اے کے تحت ’غیر قانونی ادارہ‘ قرار دینے کے معاملے پر عمر عبداللہ کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا تھا۔
اس الزام کے جواب میں عبداللہ نے کہا’’میں کسی دوسری پارٹی کے کہنے پر کام نہیں کرتا۔ جب مجھے کچھ کہنا ہوتا ہے تو میں کہتا ہوں۔ نہ میری حکومت خاموش ہے اور نہ ہی میں۔ جہاں بھی ایسے مسائل آتے ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہو، وہاں ہم یا تو حکومت کی جانب سے یا پارٹی کی طرف سے بات کرتے ہیں‘‘۔
مغربی بنگال انتخابات کے نتائج اور ایس آئی آر تنازعے سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا’’اتنے ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے اور عدالت نے کہا کہ وہ انتخابات کے بعد اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ اب اس سماعت کا کیا فائدہ ہوگا؟ انتخابات ختم ہو چکے ہیں اور ان لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اگر بی جے پی کو جیتنے کے لیے ایسا کرنا تھا تو اب وہ جیت چکی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ اس کا ملک کے باقی حصوں پر کیا اثر پڑے گا‘‘۔
کابینہ میں توسیع کے امکان سے متعلق سوال پر عبداللہ نے کہا’’آپ لوگ اس کے بارے میں اتنے فکر مند کیوں ہیں؟ جب ہمیں کرنا ہوگا، ہم کر لیں گے‘‘۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پہلگام حملے کے بعد جو سیاحتی مقامات بند کر دیے گئے تھے، انہیں مرحلہ وار دوبارہ کھولا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ معاملہ اسمبلی میں بھی اٹھایا گیا تھا۔ کئی مقامات دوبارہ کھول دیے گئے ہیں، کچھ باقی ہیں اور انہیں بھی مرحلہ وار کھول دیا جائے گا۔‘‘










